السلام علیکم! قبر میں عام طور پر مردے کو سیدھا لِٹا کر چہرہ قبلہ رخ کر دیا جاتا ہے، کیا یہ طریقہ درست ہے یا مردہ کو پہلو کے بل لٹایا جائے کہ اس کا چہرہ قبلہ کی طرف ہو یہ زیادہ صحیح طریقہ ہے؟
مسنون طریقہ یہ ہے کہ میت کے پورے بدن کو کسی شئی کے ساتھ سہارا دیکر داہنے پہلو پر قبلہ رو کرنا چاہیے، صرف منہ قبلہ رو کر دینا کافی نہیں۔
كما فی الدر المختار: (ويوجه إليها) وجوبا، وينبغي كونه على شقه الأيمن اھ (2/ 236)
وفی الشامیہ:قُلْت: وَوَجْهُهُ أَنَّ ظَاهِرَهُ التَّسْوِيَةُ بَيْنَ الْحَيَاةِ وَالْمَوْتِ فِي وُجُوبِ اسْتِقْبَالِهِ، لَكِنْ صَرَّحَ فِي التُّحْفَةِ بِأَنَّهُ سُنَّةٌ كَمَا يَأْتِي عَقِبَهُ(ج:2،ص:236)
وفى الفتاوى الهندية: ويوضع في القبر على جنبه الأيمن مستقبل القبلة، كذا في الخلاصة اھ (1/ 166)