میں یہ جاننا چاہتاہوں کہ ہم مسلمان ابِ زمزم کھڑے ہوکر کیوں پیتے ہیں، جبکہ عام حالات میں پانی بیٹھ کر پیتے ہیں، تو کیا سبب وعلت ہے اس کے کھڑے ہوکر پینے میں؟
زمزم کھڑے ہوکر پینا فرض واجب یا سنت نہیں، البتہ جائز اور زیادہ سے زیادہ مستحب ہے، اور اس کی حکمت یہ ہے کہ خوب سیر ہوکر پیا جائے۔
ففي حاشية الشمائل الترمذي: تحت الحدیث (عن ابن عباس ٲن النبي ۔ صلی اللہ علیه وسلم ۔ شرب من زمزم وھو قائم) قال القاري: یمکن التوفیق بینھما: ٲن یکون القیام مختصا بماء زمزم، وبفضل ماء الوضوء، ونکتة التخصیص في ماء زمزم ھي الاشارة ٳلی استحباب التضلع من ماء اھ (۲/۱۵)۔
وفي الفتاوی الشامية: تحت (قوله: ثم شرب من ماء زمزم الخ)ٲي قائما مستقبلا القبلة متضلعا منه، متنفسا فیه، مرارا، ناظرا في کل مرة ٳلی البیت، اھ(۲/۵۲۴) واللہ أعلم بالصواب!
استنجاء کے بعد ہاتھ دھونا - باتھ ٹب کو کھانے، پینے کے امور میں بھی استعمال کرنا
یونیکوڈ کھانے پینے کے آداب 0