مفتی صاحب ! پتہ کرنا ہے کہ کیا آب زم زم کو پینے کا کوئی خاص طریقہ یا حکم دیا گیا ہے ؟ آب زم زم کو پینے کا مستحب اور سنت طریقہ کیا ہے؟
آبِ زمزم کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر دونوں طریقہ سے پینا جائز ہے، البتہ اس کے پینے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ بندہ قبلہ رخ کھڑے ہو کر یہ دعا پڑھے اللهم اني اسألك رزقا واسعا وعلما نافعا وشفاء من كل داء اور اللہ تعالیٰ کا نام لیکر تین سانسوں میں پیئے ، خوب سیر ہو کر پیئے اور آخر میں الحمد لله کہے ، بچے ہوئے پانی کو اپنے چہرے اور سر پر مل لے ،اگر ممکن ہو تو باقی جسم پر بھی ڈالے اور اگر آپ زمزم کے کنویں پر حاضری ہوئی ہو،تو ہر مرتبہ سانس لیتے وقت بیت اللہ شریف پر نظر بھی ڈالے ۔
كما في المستدرك على الصحيحين للحاكم: عن عثمان بن الأسود قال : جاء رجل إلى ابن عباس فقال : من أين جئت ؟ فقال : شربت من زمزم فقال له ابن عباس: أشربت منها كما ينبغي ؟ قال : و كيف ذاك يا أبا عباس ؟ قال : إذا شربت منها فاستقبل القبلة و اذكر اسم الله و تنفس ثلاثا و تضلع منها فإذا فرغت منها فاحمد الله فإن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : آية بيننا و بين المنافقين انهم لا يتضلعون من زمزم اھ (2/ 120)
وفي اعلاء السنن: (تحت حدیث ابن عباس) واستحب علمائنا أن يشرب ماء زمزم قائما، ويشير اليه ما فی حدیث ابن عباس : ’’ آیة بیننا و بين المنافقين انهم لا يتضلعون من زمزم‘‘ والتضلع لا يتأتى الا قائما و اخرج البخاري عن الشعبي ان ابن عباس رضی اللہ عنه، قال: سقیت رسول اللہ ﷺ من زمزم فشرب وهو قائم اھ (210/1)
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله شرب من ماء زمزم) أي قائما مستقبلا القبلة متضلعا منه متنفسا فيه مرارا ناظرا في كل مرة إلى البيت ماسحا به وجهه ورأسه وجسده صابا منه على جسده إن أمكن كما في البحر وغيره اھ (2/ 524)
و في فتح القدير: (قوله ويأتي زمزم) أي بعد تقبيل العتبة والتزام الملتزم فيشرب منه ويفرغ على جسده باقي الدلو ويقول: اللهم إني أسألك رزقا واسعا وعلما نافعا وشفاء من كل داء اھ (2/ 505)
استنجاء کے بعد ہاتھ دھونا - باتھ ٹب کو کھانے، پینے کے امور میں بھی استعمال کرنا
یونیکوڈ کھانے پینے کے آداب 0