1۔ کیا پانی پینے کا حکم قرآن وسنت کی روشنی میں ٹھہر ٹھہر کر پینا یا تین گھونٹ میں پینا؟
2- اہلِ کتاب کے ساتھ ایک پلیٹ میں کھانا کھانے کا کیا حکم ہے ؟
۱۔ پانی ٹھہر ٹھہر کر تین سانسوں میں پینا مسنون ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح پانی پینا ثابت ہے۔
۲۔ کسی بھی غیر مسلم کے ساتھ کبھی کبھار ایک ہی برتن میں کھانا کھانا جائز ہے بشر طیکہ کھانا پاک اور حلال ہونے کا یقین ہو ، مگر اس کو معمول بنا لینا درست نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔
ففي سنن الترمذي: عن ثمامة، عن أنس، أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يتنفس في الإناء ثلاثا. حدثنا بذلك، محمد بن بشار، قال: حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، قال: حدثنا عزرة بن ثابت الأنصاري، عن ثمامة، عن أنس بن مالك، أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يتنفس في الإناء ثلاثا. (3/ 366)
وقال الله تعالى : {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ } [المائدة: 51]
كما في الدر المختار: (فسؤر آدمي مطلقا) ولو جنبا أو كافرا أو امرأة، نعم يكره سؤرها للرجل كعكسه للاستلذاذ واستعمال ريق الغير، وهو لا يجوز مجتبى. (1/ 221) والله اعلم بالصواب
استنجاء کے بعد ہاتھ دھونا - باتھ ٹب کو کھانے، پینے کے امور میں بھی استعمال کرنا
یونیکوڈ کھانے پینے کے آداب 0