محترم جناب مفتی صاحب ! مسئلہ یہ ہے کہ ایک صاحب سے دوستی ہے جو بریلوی ہے ،کئی دفعہ ان کے ساتھ عبداللہ شاہ غازی و دیگر مزاروں پر جانا ہوا ، پوچھنا یہ ہے کہ ان مزاروں پر جو کھانا کھلایا جاتاہے، اگر اس میں سے کھالوں تو یہ فعل کیسا ہے ؟آیا مزاروں پر کھلایا جانے والا جو کھانا ہے کیا اس کا کھانا درست ہے ، دوستی کی بناء پر ان کے ساتھ مجھے کھانا پڑجاتا ہے ۔
مزارات پر کھلائے جانے والے کھانوں میں لوگوں کی نیتیں مختلف ہوتی ہیں، جن میں سے بعض تو محض ایصال ثواب کیلیے کھلاتے ہیں جن کا کھانا بلاشبہ حلال ہے اور بعض کی نیت صاحب مزار کا تقرب ہوتا ہے ، جس کی بنا پر اس کا کھانا ’’مااھل به لغیر اللہ‘‘ میں داخل ہونے کی وجہ سے حرام ہے، اس لیے شخص مذکور اور دیگر اہل اسلام کو اس قسم کا مشکوک کھانا کھانے سے احتراز لازم ہے۔
قال اللہ تعالی : انما حرم علیکم المیتة و الدم و لحم الخنزیر و مااھل به لغیر اللہ الآية (البقرۃ :173)۔
و فی صحیح البخاری : عن النعمان بن بشير - رضي الله عنه – قال : قال النبي -صلی اللہ علیه وسلم- الحلال بين و الحرام بين و بينهما أمور مشتبهة فمن ترك ما شبه عليه من الإثم كان لما استبان أترك الخ (1/275)۔
استنجاء کے بعد ہاتھ دھونا - باتھ ٹب کو کھانے، پینے کے امور میں بھی استعمال کرنا
یونیکوڈ کھانے پینے کے آداب 0