کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ کتنی دعوتیں ایسی ہیں جن کا ثبوت ملتا ہے کسی نہ کسی درجہ میں یعنی ضیافتیں، مثلاً (۱) دعوتِ ولیمہ، عقیقہ کی دعوت، (۳) حج سے واپسی پر دعوت، وغیرہ۔ براہِ کرم جواب تفصیلی مرحمت فرمائیں۔
ہر وہ دعوت جو محض رسم کو پورا کرنے اور نام و نمود کیلئے نہ ہو نیز اس میں کسی ناجائز کا ارتکاب بھی نہ ہو وہ شرعاً جائز اور درست ہے، فقہاءِ کرام نے اس قسم کی جائز دعوتوں کے چند نام ذکر کئے ہیں جو درجِ ذیل ہیں:
(۱) القری: مہمانوں کی آمد پر خاطر مدارات۔
(۲) الخرست: بچہ کے پیدا ہونے پر کھانا کھلانا۔
(۳) الولیمہ: شادی پر لڑکے کی طرف سے دعوت۔
(۴) الھذیرۃ: ختنہ کے دن کھانا کھلانا۔
(۵) النقیعۃ: سفر سے آنے کی خوشی میں کھانا کھلانا۔
(۶) التحفہ: ملاقات کیلئے آنے والے کو کھانا کھلانا۔
(۷) المأدبہ: دعوت کا کھانا۔
(۸) العقیقہ: بچہ کے پیدا ہونے کے ساتویں دن عقیقہ کا کھانا کھلانا۔
(۹) الوضیہ: کسی کے ہاں انتقال ہو تو اس پر ان کو کھانا بھیجنا۔
(۱۰) الوکیرۃ: عمارت مکمل کرنے کی خوشی میں کھانا کھلانا۔ (ماخوذ از اسلام اور تربیت اولاد: ج۱، ص۱۱۴)
استنجاء کے بعد ہاتھ دھونا - باتھ ٹب کو کھانے، پینے کے امور میں بھی استعمال کرنا
یونیکوڈ کھانے پینے کے آداب 0