وضو

عارضی وِگ پر مسح کا حکم

فتوی نمبر :
17472
| تاریخ :
2012-10-26
طہارت و نجاست / طہارت / وضو

عارضی وِگ پر مسح کا حکم

اگر بالوں کا کوئی ایسا ٹکڑا جو مصنوعی ہو اور اسے باریک جال کے ذریعے باندھا گیا ہو جس سے پانی اور ہوا گزر سکتی ہو ، ایسے ٹکڑے کو کھوپڑی پر ایک مہینہ کے لۓ فِکس کردیا گیا ہو ، کھوپڑی کے کناروں پر چپکا کر، کیا وضو یا غسل ہوجائے گا ؟ کیونکہ گِلو کی وجہ سے پانی کھوپڑی کے تمام حصوں تک نہیں پہنچ پاتا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر گِلو لگانے کی وجہ سے پانی بالوں یا بالوں کی جڑوں تک نہ پہنچ پاتا ہو تو شرعاً وضوء اور فرض غسل درست نہ ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الهندیة : و ان كان علی ظاهر بدنه جلد سمك او خبر ممضوغ قد جف فاغتسل و لم یصل الماء الی ما تحته لا یجوز (إلی قوله) و لو الزقت المرأة رأسها بطیب بحیث لا یصل الماء الی اصول الشعر و جب علیها ازالته لیصل الماء الی اصوله كذا فی السراج الوهاج . (ج۱، ص۱۳)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شفیق اللہ امیر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 17472کی تصدیق کریں
0     663
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات