اگر بالوں کا کوئی ایسا ٹکڑا جو مصنوعی ہو اور اسے باریک جال کے ذریعے باندھا گیا ہو جس سے پانی اور ہوا گزر سکتی ہو ، ایسے ٹکڑے کو کھوپڑی پر ایک مہینہ کے لۓ فِکس کردیا گیا ہو ، کھوپڑی کے کناروں پر چپکا کر، کیا وضو یا غسل ہوجائے گا ؟ کیونکہ گِلو کی وجہ سے پانی کھوپڑی کے تمام حصوں تک نہیں پہنچ پاتا۔
اگر گِلو لگانے کی وجہ سے پانی بالوں یا بالوں کی جڑوں تک نہ پہنچ پاتا ہو تو شرعاً وضوء اور فرض غسل درست نہ ہوگا۔
فی الهندیة : و ان كان علی ظاهر بدنه جلد سمك او خبر ممضوغ قد جف فاغتسل و لم یصل الماء الی ما تحته لا یجوز (إلی قوله) و لو الزقت المرأة رأسها بطیب بحیث لا یصل الماء الی اصول الشعر و جب علیها ازالته لیصل الماء الی اصوله كذا فی السراج الوهاج . (ج۱، ص۱۳)۔