میں ایک اسکول میں استاد ہوں اور آٹھویں کلاس کی عربی کتاب پڑھاتا ہوں جس کے نصاب میں سورۂ یوسف، یٰس ، واقعہ اور عربی اسباق ہیں، اب کیا بچے بغیر وضو اس کو پکڑ کر پڑھ سکتے ہیں؟ اگر وضوء کروائیں تو سارا گھنٹہ ہی وضو میں گزر جاتا ہے، اس صورتحال میں میری راہ نمائی فرمائیں۔
اگر بچوں کی ایسی ترتیب کی جائے کہ پہلے سے باوضو ہوکر آئیں اور انہیں قرآن کے آداب سکھادئیے جائیں تو سوال میں مذکور اشکال نہیں رہے گا، البتہ جو بچے بالکل نابالغ ہوں اگر وہ وضو نہ کرسکیں تو اس میں حرج نہیں۔
فی الفقه الإسلامی: یحرم بالحدث الاصغر ثلاثة امور الصلاة ونحوها، والطواف، ومس المصحف وتوابعه علی تفصیلا بین المذاهب (إلی قوله) مش المصحف كله أو بعضه ولو آیة: والمحرم هو لمس الآیة ولو بغیر أعضاء الطهارة لقوله تعالٰی: ﴿لا یمسه الّا المطهّرون﴾ أی المتطهرون، وهو خیر بمعنی النهی، ولقوله ’’صلی الله علیه وسلم‘‘ (لا یمسه القرآن إلا طاهر) ولأن تعظیم القرآن واجب ولیس من التعظیم مس المصحف بیدٍ حلّها الحدث واتفق الفقهاء علی أن غیر المتوضیٔ یجوز له تلاوة القرآن أو النظر إلیه دون لمسه كما اجاز وللصبی لمس القرآن للتعلم لانه غیر مكلف والأفضل التوضوؤ. (ج۱، ص۲۹۵)
موبائل میں گانے بھرے ہوئے ہوں تو اس میں تلاوت بھروا سکتے ہیں یا نہیں؟
یونیکوڈ قرآن و حدیث کے آداب و احکام 0