ایک آدمی جس کی عمر 37 سال ہے اور وہ مسلمان خاندان سے تعلق رکھتا ہے،کچھ عرصہ بعد وہ کہتا ہے کہ میں اللہ پر (نعوذ باللہ) بھروسہ نہیں رکھتا،مجھے اللہ پر (نعوذ باللہ) اعتقاد نہیں ہے،کیا اب اس کے لئے مسلمان خاندان کے تحت آنے کی گنجائش ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ اس کی والدہ اس کے لئے قربانی اور صدقہ ادا کرنا چاہتی ہے،کیا یہ صدقہ اور قربانی عند اللہ قبول ہوگی؟
اللہ تعالی ہر قسم کے گناہوں کو معاف کرنے والا ہے،اس لئے شخص مذکور پر لازم ہے کہ ندامت کے ساتھ توبہ و استغفار کرے اور کلمہ شہادت پڑھ کر تجدید ایمان کرکے وہ مسلمان خاندان کا حصہ بن جائے،اور اس سے قبل اس کی طرف سے صدقہ و قربانی بے سود ہے۔
کما فی الہندیہ: یکفر اذا وصف اللہ تعالی بما لا یلیق بہ او سخر باسم من اسمائہ او بامر من او امرہ(2/258)
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1