السلام علیکم! مفتی صاحب! کیا سود کے پیسوں سے مسجد کا کوئی کام کروا سکتے ہیں؟ صدقہ دے سکتے ہیں؟ یا کسی غریب کو دے سکتے ہیں؟
سود کی رقم کااصل حکم یہ ہے کہ جس سے لیا ہے اس کو دے دیا جائے، مگر اصل مالک تک رسائی ممکن نہ ہو تو بلانیت ثواب کسی غریب کو دے دیا جائے اس رقم سے مسجد کا کام کروانا جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔
ففی حاشية ابن عابدين (رد المحتار): ويردونها على أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه اهـ (6/ 385) واللہ اعلم بالصواب