وضو

اگر چمڑے کے موزے اتارے جائیں تو کیا پاؤں پہننا لازم ہوگا؟

فتوی نمبر :
24772
| تاریخ :
2015-03-23
طہارت و نجاست / طہارت / وضو

اگر چمڑے کے موزے اتارے جائیں تو کیا پاؤں پہننا لازم ہوگا؟

میرا سوال یہ ہے کہ کیا چمڑے کے موزے ایک نماز پڑھ کر دوسری نماز تک اُتارسکتے ہیں پھر اسی وضو میں موزے دوبارہ پہن کر نماز ادا کرسکتے ہیں؟ چونکہ یہاں امریکہ میں بیٹھ کر وضو نہیں کرسکتے، میں جھک بھی نہیں سکتا، نہ ہی کھڑے ہوکر پاؤں دھوسکتا ہوں، جواب سے مطلع فرمادیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

آپ کے سوال کا جواب پہلے بھی دیا جاچکا ہے بہرحال پاؤں دھونا وضو کے فرائض میں سے ہے، اس لیے موزے اتارنے کے بعد بغیر پاؤں دھوئے نماز پڑھنا درست نہیں، سائل کو چاہیے کہ جب وضو کرکے موزے پہنے تو ایک دن رات اور سفر میں تین دن رات وضو کے دوران اس پر مسح کیا کرے اور موزے نہ اُتارے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الهدایة: وینقضه أیضًا نزع الخلف لسرایة الحدث إلی القدم (إلی قوله) واذا تمت المدة نزع خفیه وغسل رجلّیه ولیس علیه اعادة بقیة الوضوء وكذا إذا نزع قبل المدة اھ (۱/۵۹)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد رزان فاروق عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 24772کی تصدیق کریں
1     864
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات