حضرات آپ سے سوال تھا کہ قسم کس طرح لاگو ہوتی ہے؟ یہ کہ دینےسے قسم ہوجاتی ہے کہ مجھے اللہ کی قسم کہ یہ کام نہیں کروں گا، اور ایک اور سوال کہ میں نے قسم کھائی تھی کہ فلاں چیز نہیں دیکھوں گا، لیکن ایک دفعہ کمپیوٹر پر کلک کیا تو سامنے وہ فلم چل گئی، لیکن قسم یاد آئی، اور اللہ کا ڈر لگا تو بند کردی، تو قسم ٹوٹ گئی ؟براہِ مہربانی رہنمائی کریں۔شکریہ۔
سائل نے جس فلم کے نہ دیکھنے کی قسم کھائی تھی وہ اگر غیر ارادی طور پر کمپیوٹر پر نظر آئی ہو اور اس کے بعد اگر ایک لمحہ کیلئے بھی سائل نے اس فلم کو دیکھا ہو تو وہ اپنی قسم میں حانث ہوچکے ہیں، سائل کو چاہیے کہ قسم کا کفارہ ادا کرے۔
کما فی الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) : (و) ثالثها (منعقدة وهي حلفه على) مستقبل (آت) يمكنه، فنحو: والله لا أموت ولا تطلع الشمس من الغموس (و) هذا القسم (فيه الكفارة) (3/ 708)
وفی الھندیة: ومن فعل المحلوف علیہ عاملاً او ناسیاً او مکرھاً فھو سواء اھ (2/52)۔
’’اگر میں نے اس کام کو دوبارہ کیا تو میں اللہ اور اس کے رسول کا بڑا دشمن ہوں گا‘‘کہنے کا حکم
یونیکوڈ قسم کا کفارہ 0