کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کوئی شخص یہ قسم کھائے کہ حکومت کے ہر قانون پر عمل کرے گا لیکن اور بعد میں حکومت نے کوئی نیا قانون بنادیا علم نہ ہونے کی وجہ سے یہ شخص اس پر عمل نہیں کرتا رہا، کیا قسم کا کفارہ لازم ہوگا یا نہیں؟
نوٹ: الفاظِ قسم یہ ہیں: مجھے قسم ہے میں آئندہ پاکستان کے ہر قانون پر عمل کروں گا۔
کوئی شخص اگر ان الفاظ کے ساتھ قسم کھائے ’’مجھے قسم ہے میں آئندہ پاکستان کے ہر قانون پر عمل کروں گا‘‘ تو ایسی صورت میں اس کے ذمہ حکومتِ پاکستان کے ہر جائز قانون پر عمل کرنا لازم ہوگا، لہٰذا اس قسم کے بعد اگر شخصِ مذکور نے پہلے سے موجود یا نئے بننے والے قوانین کی قصداً یا انجانے میں خلاف ورزی کی تو اپنی قسم میں حانث ہونے کی وجہ سے اس پر قسم کا کفارہ لازم ہوگا اور قسم میں چونکہ عموم کے الفاظ نہیں اس لئے ایک دفعہ کفارہ ادا کرنے کے بعد اگر دوبارہ قانون کی خلاف ورزی کی تو اس پر دوبارہ کفارہ لازم نہ ہوگا۔
کما فی الہندیۃ: ولو قال: أشہد أن لا أفعل کذا، أو أشہد باللہ، أو قال: أحلف، أو أحلف باللہ، أو أقسم، أو أقسم باللہ، أو أعزم، أو أعزم باللہ، أو قال: علیہ عہد، أو علیہ عہد اللہ أن لا یفعل کذا، أو قال: علیہ ذمۃ اللہ أن لا یفعل کذا یکون یمینا۔ وکذا لو قال: علیہ یمین، أو یمین اللہ۔ اھـ (ج۲، ص۵۳)۔
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ: إذا ذکر الحالف القسم والخبر المقسم علیہ، ولم یذکر المقسم بہ أي لفظ الجلالۃ بأن قال: (أشہد) أو (أحلف) أو (أقسم) أو (أعزم) لأفعلن کذا، کان یمینًا عند جمہور الحنفیۃ۔ اھـ (ج۳، ص۳۸۲)۔
وایضًا فیہ: حکم الناسی والمکرہ: الکفارۃ تجب فی الیمین المنعقدۃ عند الحنفیۃ والمالکیۃ، سواء أکان الحانث عامدًا أم ساہیًا أم مخطئًا أم نائمًا أم مغمی علیہ أم مجنونًا أم مکرہًا۔ اھـ (ج۳، ص۳۶۷) واللہ اعلم بالصواب
’’اگر میں نے اس کام کو دوبارہ کیا تو میں اللہ اور اس کے رسول کا بڑا دشمن ہوں گا‘‘کہنے کا حکم
یونیکوڈ قسم کا کفارہ 0