السلام علیکم
میرا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص قرآنِ پاک پر ہاتھ رکھ کر کہے کہ میں آج سے فلاں کام یا گناہ نہیں کرونگا اور پھر اس کے باوجود اس سے وہ گناہ ہو جائے, تو کیا اسکی معافی ہو سکتی ہے یا اسکا کوئی کفارہ ہے ؟ شکریہ
صورتِ مسئولہ میں قرآن ہاتھ میں لے کر مذکور شخص نے صرف یہ جملہ کہ "آج کے بعد فلاں کام یا گناہ نہیں کروں گا"کہا ہو اور ساتھ میں قسم وغیرہ کے الفاظ نہ کہے ہوں تو صرف قرآن ہاتھ میں اٹھانےسے مذکور شخص پر قسم وغیرہ منعقد نہیں ہوئی تھی،لہذا اگر اس کے بعد مذکور شخص نے وہ کام کرلیا ہو تو اس سے کوئی کفارہ وغیرہ لازم نہیں ہوا ،البتہ گناہ پر بصدق دل توبہ و استغفار اور آئندہ کیلئے اس سے اجتناب لازم ہے -
’’اگر میں نے اس کام کو دوبارہ کیا تو میں اللہ اور اس کے رسول کا بڑا دشمن ہوں گا‘‘کہنے کا حکم
یونیکوڈ قسم کا کفارہ 0