میرا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی بندہ اپنے ساتھ عہد کرتا ہے کسی کام کے نہ کرنے کا (عہد سے مراد قسم کھانا نہیں، بلکہ یہ الفاظ کہنا ہے کہ میں اپنے ساتھ عہد کرتا ہوں کہ یہ کام آئندہ نہیں کروں گا) اور پھر کسی وقت مجبور ہو کر / دانستہ طور پر وہ کام کر لے تو اس صورت میں کوئی کفارہ ادا کرنا ہوگا یا صرف توبہ کرنی ہوگی؟ اور ایک دوسری صورت یہ ہے کہ اگر کوئی ان الفاظ کے ساتھ عہد کرے کہ ’’میں اللہ سے عہد کرتا ہوں کہ فلاں کام نہیں کروں گا‘‘ تو اس صورت میں عہد توڑنے کا کفارہ کیا ہوگا؟
خط کشیدہ دونوں جملوں سے قسم منعقد ہو جاتی ہے، اس لیے خلاف ورزی کی صورت میں قسم میں حانث ہونے کی وجہ سے کفارہ دینا لازم ہوگا جو کہ دس مسکینوں کو پیٹ بھر کر صبح وشام کھانا کھلانا یاان کو کپڑے پہنانا ہے، اگر حانث ہونے والا شخص مفلس ہو اور وہ کفارہ دینے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو بطورِ کفارہ تین دن مسلسل روزے رکھے۔
کمافی الفتاوى الهندية: ولو قال: أشهد أن لا أفعل كذا، أو أشهد بالله، أو قال: أحلف، أو أحلف بالله، أو أقسم، أو أقسم بالله، أو أعزم، أو أعزم بالله، أو قال: عليه عهد، أو عليه عهد الله أن لا يفعل كذا، أو قال: عليه ذمة الله أن لا يفعل كذا يكون يمينا. (2/ 53)
وفیھا أیضًا: وهي أحد ثلاثة أشياء إن قدر عتق رقبة يجزئ فيها ما يجزئ في الظهار أو كسوة عشرة مساكين لكل واحد ثوب فما زاد وأدناه ما يجوز فيه الصلاة أو إطعامهم والإطعام فيها كالإطعام في كفارة الظهار هكذا في الحاوي للقدسي. وعن أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله تعالى إن أدنى الكسوة ما يستر عامة بدنه حتى لا يجوز السراويل وهو صحيح كذا في الهداية. فإن لم يقدر على أحد هذه الأشياء الثلاثة صام ثلاثة أيام متتابعات وهذه كفارة المعسر والأولى كفارة الموسر وحد اليسار في كفارة اليمين أن يكون له فضل على كفافه مقدار ما يكفر عن يمينه وهذا إذا لم يكن في ملكه عين المنصوص عليه أما إذا كان في ملكه عين المنصوص عليه وهو أن يكون في ملكه عبد أو كسوة أو طعام عشرة لا يجوز أن يصوم اھ(2/ 61)
’’اگر میں نے اس کام کو دوبارہ کیا تو میں اللہ اور اس کے رسول کا بڑا دشمن ہوں گا‘‘کہنے کا حکم
یونیکوڈ قسم کا کفارہ 0