ترجمہ: مفتی صاحب میں نےبہت ساری الگ الگ قَسم کی "اللہ اور قرآن" کی قسمیں کھائی ہیں کہ" میں یہ کام نہیں کرونگی" اور الگ الگ قِسم کی قسمیں کھائی ہیں، اور میں نے ایک بھی قسم پوری نہیں کی، تو مجھے کیا بہت ساری قسموں کا ایک ہی کفارہ ادا کرنا ہوگا یا کہ سبھی قسموں کے الگ الگ کفارے ہونگے ؟ جبکہ میں بہت کمزور ہوں اور میرے پاس پیسے بھی نہیں ہیں، اور مستقبل (فیوچر) میں کفارے ادا کرنے کا سوچتی ہوں تو میں ڈپریشن میں چلی جاتی ہوں، تو کیا ایک کفارہ ادا کرنے سے سب کی ادائیگی ہو جائے گی مجبوری میں؟
واضح ہو کہ راجح قول کے مطابق قسم کے کفاروں میں تداخل نہیں ،(خصوصاً جب قسمیں مختلف امور کے کرنے یا نہ کرنے سے متعلق ہوں) لہٰذا سائلہ نے اگر مختلف کاموں کے کرنے یا نہ کرنے کی متعدد قسمیں کھائی ہوں،اور پھر ان قسموں میں حانث ہو چکی ہو ، تو ایسی صورت میں سائلہ کے ذمہ ہر قسم میں حانث ہونے کے بدلے مستقل علیحدہ علیحدہ کفارہ لازم ہوگا۔
اور قسم کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلائے یا دس مسکینوں کو اوسط درجے کے پہننے کے لۓ کپڑے دے اور اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو تین روزے پے در پے رکھنا لازم ہے۔
البتہ اگر سائلہ کو ایک ساتھ قسموں کے کفارے ادا کرنے میں مشکلات اور دشواری ہو تو وقفے وقفے سے ان کفار وں کی ادائیگی کر سکتی ہے۔
تاہم اگر سائلہ کے ذمہ بہت سارے کفارے ہوں اور سائلہ مالی اور جسمانی طور پر کمزور ہونے کیوجہ سے ان کفاروں کی ادائیگی کی استطاعت نہ رکھتی ہو تو ایک مرجوح قول کے مطابق متعدد قسموں کے کفاروں میں تداخل کیا جاسکتا ہے،لہٰذا اگر سائلہ انتہائی مجبوری کی صورت میں تمام قسموں میں حانث ہونے کے بدلے ایک کفارہ ادا کر لے تو اسکی گنجائش معلوم ہوتی ہے۔
البتہ سائلہ کو اپنے اس عمل پر توبہ و استغفار اورآئندہ کیلئے قسمیں کھا کر توڑنے سے اجتناب لازم ہے۔
كما قال اللہ تعالیٰ : لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَ لَكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدتُّمُ الْأَيْمَانَ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ذَلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَ احْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ (المائدة:89)۔
و في الدر المختار : و في البحر عن الخلاصة و التجريد : وتتعدد الكفارة لتعدد اليمين ، و المجلس و المجالس سواء ؛ و لو قال : عنيت بالثاني الأول ففي حلفه بالله لا يقبل اھ(3/714)۔
و فی ردالمحتار : (قوله و تتعدد الكفارة لتعدد اليمين)و في البغية : كفارات الأيمان إذا كثرت تداخلت ، و يخرج بالكفارة الواحدة عن عهدة الجميع . و قال شهاب الأئمة : هذا قول محمد ، قال صاحب الأصل : هو المختار عندي . اهـ . مقدسي ، و مثله في القهستاني عن المنية اھ(3/714)۔
و فی البحر الرائق : و لو قال : و الله و الرحمن و الرحيم لا أفعل كذا ففعل ففي الروايات الظاهرة يلزمه ثلاث كفارات و يتعدد اليمين بتعدد الاسم لكن يشترط تخلل حرف القسم و روى الحسن عن أبي حنيفة أن عليه كفارة واحدة و به أخذ مشايخ سمرقند و أكثر المشايخ على ظاهر الرواية (4/316)۔
و فى كنز الدقائق : و كفارته تحرير رقبة أو إطعام عشرة مساكين كهما في الظهار أو كسوتهم بما يستر عامة البدن فإن عجز عن أحدهما صام ثلاثة أيام متتابعة اھ (ص:328)۔
’’اگر میں نے اس کام کو دوبارہ کیا تو میں اللہ اور اس کے رسول کا بڑا دشمن ہوں گا‘‘کہنے کا حکم
یونیکوڈ قسم کا کفارہ 0