سوال: میری منگیتر نے میرے سامنے مجھ سے یہ کہا تھا کہ " میں آپ کی قسم کھا کر یہ کہتی ہوں کہ میں آج کے بعد اسٹور روم میں نہیں جاؤنگی" مگر وہ غلطی سے وہاں چلی گئی، جیسے ہی اس کو اپنی قسم یاد آئی، وہ اسی وقت واپس آگئی،اب دو سوال ہیں (۱): کیا کسی انسان کی قسم ہوتی ہے ۔ (۲):اور کیا میری منگیتر کو کفارہ دینا پڑے گا ؟ اگر ہاں ! تو کیا ؟ ذیشان ۔لاہور
کسی انسان کی قسم کھانا جائز نہیں ، اس لیے سوال میں مذکور خاتون کا مذ کو طریقہ سے قسم اٹھانا غلط تھا، جس کی وجہ سے اس پر توبہ واستغفار لازم ہے، اور اس طرح کی قسم ٹوٹ جانے کی صورت میں کوئی کفارہ لازم نہیں۔
ففي الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: إذا حلف الإنسان بغير الله تعالى، كالإسلام أو بأنبياء الله تعالى أو بملائكته (إلی قوله) ومثل: (لعمرك وحياتك وعيشك وحقك) فلا يكون يميناً بإجماع العلماء، وهو مكروه . قال الشافعي: أخشى أن يكون معصية ولا يجب عليه كفارة اھ (4/ 2472)۔
و في الفتاوى الهندية: أما اليمين بغير الله فنوعان أحدهما اليمين بالآباء والأنبياء والصوم والصلاة وسائر الشرائع والكعبة والحرم وزمزم ونحو ذلك ولا يجوز الحلف بشيء من ذلك اھ (2/ 51) واللہ اعلم بالصواب
’’اگر میں نے اس کام کو دوبارہ کیا تو میں اللہ اور اس کے رسول کا بڑا دشمن ہوں گا‘‘کہنے کا حکم
یونیکوڈ قسم کا کفارہ 0