کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ خالد اور خالدہ میاں بیوی ہیں ، خالدہ کے تعلقات اجنبی مرد جو کہ زید ہے، کے ساتھ ہیں جب خالد کو ان کے تعلقات کے بارے میں علم ہوا تو انہوں نے اپنی بیوی خالدہ کو مارا پیٹا ،تو خالدہ نے شوہر کو اعتماد دلانے کے لیے قرآن کریم پر ہاتھ رکھ کر جھوٹی قسم اُٹھائی کہ میرے کسی قسم کے تعلقات زید کے ساتھ نہیں ہیں، لیکن بعد میں ایسے شواہد ملے کہ جس سے معلوم ہوا، کہ انکے تعلقات تھے، مثلاً موبائل پر پیغامات اور چند خطوط برآمد ہو گئے، اس کے بعد خالدہ اور زید دونوں نے اقرار بھی کیا کہ ان کے آپس میں تعلقات تھے، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت حال میں خالدہ نے جو جھوٹی قسم کھائی ہے اس کا کیا حکم ہوگا؟ اور خالد اپنی بیوی خالدہ کو اپنے عقدِ نکاح میں رکھ سکتا ہے یا نہیں؟ براہ کرم حکمِ شرعی سے تفصیلی طور پر آگاہ فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔
جھوٹی قسم کھانا گناہِ کبیرہ ہے، اس لیے مذکور خاتون جھوٹی قسم کی وجہ سے بہت سخت گناہ گار ہوئی ہے، اس پر لازم ہے کہ بصدقِ دل توبہ و استغفار کرے اور آئندہ جھوٹی قسمیں کھانے اور اجنبی مردوں کے ساتھ تعلقات جوڑنے سے مکمل احتراز بھی کرے، تاہم اگر مسمیٰ خالد یعنی شوہر بھی اُسے درگزر کر کے حسبِ سابق اپنے عقدِ نکاح میں برقرار رکھنا چاہے تو اس کا اسے اختیار ہے اور یہ شرعاً بھی جائز اور درست ہے۔
ففی الدر المختار: (غموس) تغمسه في الإثم ثم النار، وهي كبيرة مطلقا، لكن إثم الكبائر متفاوت نهر (إن حلف على كاذب عمدا) ولو غير فعل أو ترك كوالله إنه حجز الآن في ماض (كوالله ما فعلت) كذا (عالما بفعله أو) حال (كوالله ما له علي ألف عالما بخلافه والله إنه بكر عالما بأنه غيره) وتقييدهم بالفعل والماضي اتفاقي أو أكثري (ويأثم بها) فتلزمه التوبة. (3/ 705)۔
و فی حاشية ابن عابدين: (قوله ويأثم بها) أي إثما عظيما كما في الحاوي القدسي. (إلی قولہ) (قوله فتلزمه التوبة) إذ لا كفارة في الغموس يرتفع بها الإثم فتعينت التوبة للتخلص منه. (3/ 706)۔
وفی الدر المختار: لا) يقسم (بغير الله تعالى كالنبي والقرآن والكعبة) قال الكمال: ولا يخفى أن الحلف بالقرآن الآن متعارف فيكون يمينا. وأما الحلف بكلام الله فيدور مع العرف. وقال العيني: وعندي أن المصحف يمين لا سيما في زماننا اھ (3/713)۔
’’اگر میں نے اس کام کو دوبارہ کیا تو میں اللہ اور اس کے رسول کا بڑا دشمن ہوں گا‘‘کہنے کا حکم
یونیکوڈ قسم کا کفارہ 0