ایک شخص نے کسی کو رینٹ پر کوئی چیز دی تھی،پھر اس کے پیسے آتے تھے سود کے ساتھ،پھر اس کا کسی بات پر اس کے ساتھ جھگڑا ہوگیا،پھر اس نے قرآن کی قسم کھائی کہ میں تیرے سے پورے پیسے لونگا،اب جرگے نے فیصلہ کیا کہ سود کے پیسے چھوڑدو اور باقی لے لو،اب اس نے جو قرآن کی قسم کھائی ہے اس کا کیا حکم ہوگا؟رہنمائی فرمائیں
صورتِ مسئولہ میں شخصِ مذکور نے سود سمیت پوری رقم لینے پر قرآن کی قسم کھائی تو یہ قسم منعقد ہوچکی ہے،تاہم مذکور قسم چونکہ معصیت پر کھائی ہے،لہذا اس قسم کو توڑنا واجب ہے،چنانچہ قسم توڑنے کی وجہ سے اس پر کفارہ لازم ہوگا۔
اور قسم کا کفارہ یہ ہے کہ دس فقیروں کو صبح وشام پیٹ بھر کر کھانا کھلایا جائےیا ہر ایک فقیر کو ایک صدقہ فطر کے برابر رقم دی جائے،لیکن اگر اس کی بھی قدرت نہ ہو تو پھر تین دن مسلسل روزے رکھے جائیں۔
قال اللہ تعالی: {لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُمُ الْأَيْمَانَ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ذَلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ} [المائدة: 89]۔
وفی رد المحتار تحت (قوله عشرة مساكين) أي تحقيقا أو تقديرا، حتى لو أعطى مسكينا واحدا في عشرة أيام كل يوم نصف صاع يجوز الخ (ج3 ص725 کتاب الأیمان ط: سعید)۔
وفی الهداية: قال: " ومن حلف على معصية مثل أن لا يصلي أو لا يكلم أباه أو ليقتلن فلانا ينبغي أن يحنث نفسه ويكفر عن يمينه " لقوله عليه الصلاة والسلام: " من حلف على يمين ورأى غيرها خيرا منها فليأت بالذي هو خير ثم ليكفر عن يمينه " ولأن فيما قلنا تفويت البر إلى جابر وهو الكفارة ولا جابر للمعصية في ضده الخ (ج2 ص479 کتاب الأیمان،فصل فی الکفارۃ ط: رحمانیۃ)۔
’’اگر میں نے اس کام کو دوبارہ کیا تو میں اللہ اور اس کے رسول کا بڑا دشمن ہوں گا‘‘کہنے کا حکم
یونیکوڈ قسم کا کفارہ 0