السلام علیکم مفتی صاحب!
پوچھنا یہ ہے کہ سنت اور نفل نماز میں ، رکوع اور سجدہ میں تسبیحات کے بعد استغفار پڑھ سکتے ہیں؟ اور اگر پڑھ سکتے ہیں تو مہربانی کر کے حوالہ بتا کر راہ نمائی کریں۔
جی ہاں! سنت اور نوافل میں تسبیحات کے علاوہ دیگر دعا و استغفار وغیرہ کا پڑھنا بھی شرعاً درست ہے۔
و في صحيح مسلم : عن علي بن أبي طالب ، عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ، أنه كان إذا قام إلى الصلاة ، قال: «وجهت وجهي للذي فطر السمٰوات و الأرض حنيفا ، (إلی قوله) و إذا ركع ، قال : «اللهم لك ركعت ، و بك آمنت ، و لك أسلمت ، خشع لك سمعي ، و بصري ، و مخي ، و عظمي ، و عصبي» اھ (1/ 534)۔
و في الدر المختار : (و ليس بينهما ذكر مسنون ، و كذا) ليس (بعد رفعه من الركوع) دعاء ، و كذا لا يأتي في ركوعه و سجوده بغير التسبيح (على المذهب) و ما ورد محمول على النفل اھ (1/ 505)۔
سنن زوائد یا نفل کی چار رکعات میں قعدۂ اولیٰ میں تشہد کے بعددرود شریف اور ادعیۂ ماثورہ پڑھنا
یونیکوڈ نوافل 0