جناب مجھے قطرات کی شکایت کوئی تقریباً ۱۰ یا ۱۵ منٹ تک رہتی ہے مجھے چونکہ مسئلہ معلوم نہیں ہے اس لئے میں پیشاب نماز کی ادائیگی کے بعد کرتا ہوں تاکہ کوئی وہم نہ رہے، لیکن آپ سے مسئلے کا جواب درکار ہے؟
اگرپیشاب بہت شدت سے نہ آرہا ہو تو آپ کا مذکور عمل درست اور احتیاط پر مبنی ہے تاہم اگر پہلے سے پیشاب کرلیا ہو تو دس، پندرہ منٹ تک انتظار کے بعد وضو کرلیا کریں۔
قال فی در المختار: وصاحب عذر من بہ سلس بول لا یمکنہ امساکہ او استلاق بطن بطن او انفلات ریح او استحاضة او بعینہ رمد او عمش او غرب وکذا کل ما یخرج بوجع ولو من اذن وثدی وسرة ان استوعب عذرہ تمام وقت صلوٰة مفروضة ولو حکما وھذا شرط فی حق الابتداء وفی البقاء کفٰی وجودہ فی جزء من الوقت. (ج۱، ص۳۰۵) واللہ اعلم