کیا میری بیوی اپنے بیٹے کے ساتھ جو بارہ سال کا ہے عمرہ کا سفر کر سکتی ہے؟
واضح رہے کہ صورتِ مسئولہ میں سائل کا بیٹا اگر دیگر علامات بلوغ ( مثلاً احتلام وغیرہ ) کی بناء پر بالغ ہوگیا ہو یا مذکور عمر میں جسمانی صحت اچھی ہونے کے ساتھ ہوشیار بھی ہو تو ایسا لڑکا اپنی والدہ کے ساتھ بطور محرم عمرہ کے سفر پر جا سکتا ہے ورنہ نہیں۔
فی بدائع الصنائع: (وأما) .الذي يخص النساء فشرطان: أحدهما أن يكون معها زوجها أو محرم لها فإن لم يوجد أحدهما لا يجب عليها الحج.( الی قولہ) وقالوا في الصبي الذي لم يحتلم، والمجنون الذي لم يفق: إنهما ليسا بمحرمين في السفر؛ لأنه لا يتأتى منهما حفظهااھ ( ۲/ ۱۲۳، ۱۲۴)۔
و کما فی البحر الرائق: و یشترط فی حج المرأۃ من سفر زوج أو محرم بالغ عاقل الخ( ۲/ ۳۱۵)۔
و کما فی تاتارخانیۃ: و المحرم فی حق المرأۃ شرط شابۃ کانت أو عجوزاً إذا کانت بینھما و بین مکۃ مسیرۃ ثلاثۃ ایام ( الی قولہ) و المحرم الزوج و من لایجوز مناکحتھا علی التابید برضاع او صھریۃ و فی الخانیۃ او رحم و یکون مامونا عاقلاً بالغاً الخ (۲/ ۴۳۴)۔
وکما فی تنویر البصار:( بلوغ الغلام بالاحتلام و الاحبال و الانزال) ( والجاریۃ بالاحتلام و الحیض و الحبل) ( فان لم یوجد فیھما( فحتی یتم لکل منھما خمس عشرۃ سنۃ بہ یفتی) (و أدنی مدتہ لہ اثنا عشرۃ سنۃ ولھا تسع سنین)( فان راھقا) (الی قولہ) ( ھما ) ( کبالغ حکما) الخ (۶/ ۱۵۳، ۱۵۴)و اللہ اعلم بالصواب