میں جس سافٹ ویئر کمپنی میں کام کرتا ہوں، وہ قرعہ اندازی کے ذریعے 10 میں سے 1 ایسے شخص کو عمرہ پر بھیج رہی ہے، جس نےکمپنی میں 3 سال مکمل کر لیے ہیں، یہ کمپنی سپانسرکرتی ہے اور اس سے صرف 1 شخص کو بھیجا جائے گا، اگر مجھے قرعہ اندازی میں منتخب کیا جائے، تو کیا کمپنی کے اخراجات پر جانا جائز ہے؟ کیا ایسی قرعہ اندازی کا حصہ بننا بھی جائز ہے؟
صورتِ مسئولہ میں مذکور کمپنی قرعہ اندازی میں شامل ہونے کے لئے اگر اپنے ملازمین سے کوئی رقم وصول نہ کرتی ہو، بلکہ اپنی طرف سے قرعہ اندازی میں نام نکلنے والے ملازم کو عمرہ پر بھیجتی ہو تو یہ کمپنی کی طرف سے تبرع و احسان ہے، جو شرعاً جائز اور درست ہے ، لہٰذا سائل کا اس قرعہ اندازی کا حصہ بننا اور قرعہ اندازی میں نام نکلنے کی صورت میں کمپنی کے خرچہ پر عمرہ پر جانا بہر دو امور کی اجازت ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔
کما فی الدر المختار: (فإن استووا يقرع) بين المستويين (أو الخيار إلى القوم) فإن اختلفوا اھ۔
و فی رد المحتار : (قوله أقرع بينهم) أي إذا تنازعوا. والظاهر أن هذا على سبيل الأولوية اھ (1/558)۔
وفی الدر المختار: (هي) لغة: التفضل على الغير ولو غير مال. وشرعا: (تمليك العين مجانا) أي بلا عوض لا أن عدم العوض شرط فيه الخ
و فی رد المحتار: (قوله: بلا عوض) أي بلا شرط عوض فهو على حذف مضاف الخ ( کتاب الھبۃ ج 5 ص 687 ط: سعید)۔