کیا کوئی شخص بزنس ویزہ پر عمرہ کر سکتا ہے ؟ یعنی شرعا ًکوئی قباحت تو نہیں ؟
بزنس ویزہ پر عمرہ کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں ،عمرہ ادا ہو جاتا ہے ، تاہم اگر ایسا کرنا قانونی طور پر ممنوع ہو تو قانون کی خلاف ورزی کرکے اپنے نفس و عزت کو خطرہمیں ڈالنا دانشمندی نہیں جس سے اجتناب کرنا چاہیے ۔
کما فی المرقاۃ : ثُمَّ اعْلَمْ أَنَّ مَنْ حَجَّ بِقَصْدِ الْحَجِّ وَالتِّجَارَةِ كَانَ ثَوَابُهُ دُونَ ثَوَابِ التَّخَلِّي عَنِ التِّجَارَةِ،(إلی قوله)وَكَانَ الْقِيَاسُ أَنْ لَا يَكُونَ لِلْحَاجِّ التَّاجِرِ ثَوَابٌ لِقَوْلِهِ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - مَنْ حَجَّ لِلَّهِ أَيْ خَالِصًا لِرِضَاهُ إِلَّا أَنَّهُ صَحَّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ النَّاسَ تَحَرَّجُوا مِنَ التِّجَارَةِ وَهُمْ حُرُمٌ بِالْحَجِّ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ {لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ} [البقرة: 198] اھ (5/382)۔
و فی الرد تحت : (قوله ومن صلى أو تصدق إلخ)(إلی قوله)وقالوا أیضاً إن من نوى الحج والتجارة لا ثواب له إن كانت نية التجارة غالبة أو مساوية اھ (6/425)۔