السلام علیکم! عمرہ سے متعلق سعودی حکام کی جانب سے جو نیا مروّجہ قانون جاری ہوا ہے، اس کے مطابق عمرہ ادائیگی کے دوران ماسک پہنا ضروری ہے؟ کیا اس کے لیے احتیاط دم دینا ہو گا؟ اور یہ بھی فرما دیں کہ اس صورت میں کیا خواتین ماسک کی جگہ نقاب لگا کر عمرہ کر سکتی ہیں ؟
واضح ہو کہ احرام کی حالت میں (عمرے کے دوران) بلا کسی عذر کے چہرے کا ڈھانکنا جائز نہیں ، اگر کسی نے بلا کسی عذر کے ایک دن یا ایک رات پورا چہرایا چہرے کا چو تھائی حصہ ڈھانک کے رکھا تو اس کے ذمہ دم لازم ہو گا، البتہ اگر چہرے کے چوتھائی حصے سے کم یا ایک دن ایک رات سے کم وقت تک چہرہ ڈھکا رہا تو ایسی صورت میں بقدرِ صدقہ فطر صدقہ دینا لازم ہو گا، تاہم اگر کسی عذر کی وجہ سے کسی نے ایسا کیا تو اسے دم دینے یا چھ مساکین کو بقدر صدقہ فطر صدقہ دینے یا تین دن روزے رکھنے میں سے کسی ایک کام پر عمل کرنے کا اختیار حاصل ہوگا، لہذا عمرہ ادا کرنے والے افراد کے لیے تو بلا کسی عذر کے ماسک پہننا جائز نہیں، جس سے اجتناب لازم ہے۔ البتہ اگر کوئی عذر ہو (مثلاً حکومت کی طرف سے ماسک پہننے کو لازم قرار دیا گیا ہو) تو ایسی صورت احرام کی حالت میں اگرچہ ماسک پہننا جائز ہوگا، لیکن مروّجہ ماسک سے چونکہ چہرے کا ایک چوتھائی حصہ ڈھک جاتا ہے اس لیے اگر کسی شخص نے احرام کی حالت میں پورا دن یا پوری رات ماسک پہن کے رکھا تو ایسی صورت میں اس کے ذمہ دم دینا ( ایک بکری ذبح کرنا) یا چھ مسکینوں میں سے ہر ایک کو بقدر صدقہ فطر صدقہ دینا یا تین روزے رکھنا لازم ہو گا، چنانچہ مذکور تین افعال میں سے اگر کسی ایک پر عمل کیا جائے تو اس عمل کی تلافی ہو جائے گی ، البتہ اس صورت میں بھی دم دینا افضل ہے ، اور اگر کسی نے ایک دن اور ایک رات سے کم وقت کے لیے ماسک پہنا تو ایسی صورت میں اس کے ذمہ ایک مسکین کو بقدر صدقہ فطر صدقہ دینا یا ایک روزہ رکھنا لازم ہو گا، جبکہ خواتین کے لیے ماسک کے
بجائے نقاب پہن کر عمرہ کرنا درست نہیں ہے، جس سے اجتناب لازم ہے۔
كما في الدر المختار: فيشترط للزوم الدم دوام لبسه يوما (إلی قوله) (أو ستر رأسه) بمعتاد إما بحمل إجانة أو عدل فلا شيء عليه (يوما كاملا) أو ليلة كاملة، وفي الأقل صدقة (والزائد) على اليوم (كاليوم) (إلی قوله) وتغطية ربع الرأس أو الوجه كالكل ولا بأس بتغطية أذنيه وقفاه ووضع يديه على أنفه بلا ثوب اھ (2/ 549)
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله أو ستر رأسه) أي كله أو ربعه، ومثله الوجه كما يأتي (2/ 547)
وفي مناسك الملا علی قارئ مع ارشاد السارى: ولو غطى جميع رأسه أو وجهه بمخيط أو غيره يوماً أو ليلة فعليه دم وفى الأقل من يوم صدقة والربع منها كالكل (ص: 435)
وفيه أيضاً: إذا فعل شيئاً من ذالك مما ذكر من الأشياء المحظورة) على وجه الكمال فان كان بغير عذر فعليه دم عيناً لا يجوز عنه غيره وان كان بعذر فهو مخير بين الدم والطعام والصيام، ولوكان موسرا قادراً على الدم أو الطعام فان اختار الطعام فعليه أن يطعم ستة مساكين كل مسكين نصف صاع من بر أو دقیق أو صاعا من تمر أو شعير ويجوز فيه التمليك والإباحة وإن اختار الصيام فعليه صوم ثلاثة أيام ويجوز ولو متفرقاً وإن لم يفعل شيئاً منها على وجه الكمال بأن لبس أقل من يوم أو تطيب قليلاً ونحو ذلك فعليه نصف صاع من بر أو صاع من غيره لا يجوز فيه الصوم إن كان بغير عذر وإن كان بعذر فهو مخير بين الصدقة وصوم يوم اھ (ص/ 551.552.553)
وفی الفتاوى الهندية: ولو غطى المحرم رأسه أو وجهه يوما فعليه دم، وإن كان أقل من ذلك فعليه صدقة كذا في الخلاصة وكذا إذا غطاه ليلة كاملة سواء غطاه عامدا أو ناسيا أو نائما كذا في السراج الوهاج. إذا غطى ربع رأسه فصاعدا يوما فعليه دم، وإن كان أقل من ذلك فعليه صدقة اھ (1/ 242)