السلام علیکم! میرے دو سوال ہیں:
۱۔ برائے مہربانی فجر کے آخر وقت کی وضاحت کیجیے، کیا سورج طلوع ہونے سے پہلے نمازِ فجر ادا کی جا سکتی ہے؟ نمازِ فجر کس وقت کے بعد قضاء ہوگی؟
۲۔کیا فرماتے ہیں سنت کے بارےمیں کہ فجر میں دو ، ظہر میں چار ، مغرب میں دو اور عشاء میں چار ،یہ کل چودہ ہوئیں ایک دن میں، میں یہ سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا ان کو ادا کرنا ضروری ہے؟ اگر ان کو ادا کرنا ضروری ہے تو پھر سنن اور فرض نماز میں کیا فرق ہوا ؟
۱۔ جی ہاں ! سورج طلوع ہونے سے پہلے پہلے نمازِ فجر ادا کی جا سکتی ہے اور یہی فجر کا آخری وقت ہے ، اس کے بعد نمازِ فجر قضاء ہو جاتی ہے ، پھر چونکہ یہ وقت ہر موسم کے حساب سے مختلف ہوتا رہتا ہے، اس لیے گھنٹے منٹ کے اعتبار سے ، کسی ایک وقت کی تعیین مشکل ہے ، البتہ کسی معتمد دائمی نقشۂ اوقاتِ نماز‘‘ کے ذریعہ اس سلسلہ میں مدد لی جا سکتی ہے، جبکہ فجر کی سنتیں اگر جماعت سے قبل رہ گئی ہوں ، تو طلوعِ آفتاب سے قبل ان کا پڑھنا درست نہیں، البتہ بعد میں چاشت تک پڑھ سکتے ہیں۔
۲۔فرض اور سنت دونوں کا اگرچہ دلیل اور حکم کے اعتبار سے بہت زیادہ فرق ہے، مگر دونوں کی حیثیات کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان میں ہر ایک کا اہتمام اپنی جگہ ضروری ہے۔
فی سنن الترمذي : عن أبي هريرة ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : (إلی قوله) و إن أول وقت الفجر حين يطلع الفجر ، و إن آخر وقتها حين تطلع الشمس . اھ (1/ 220)۔
و فی مشكاة المصابيح : عن عبد الله ابن عمرو قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : (إلی قوله) «و وقت صلاة الصبح من طلوع الفجر ما لم تطلع الشمس فإذا طلعت الشمس فأمسك عن الصلاة فإنها تطلع بين قرني شيطان» . رواه مسلم اھ (1/ 184)۔
و فی الفتاوى الهندية : وقت الفجر من الصبح الصادق و هو البياض المنتشر في الأفق إلى طلوع الشمس اھ (1/ 51)۔
سنن زوائد یا نفل کی چار رکعات میں قعدۂ اولیٰ میں تشہد کے بعددرود شریف اور ادعیۂ ماثورہ پڑھنا
یونیکوڈ نوافل 0