میرے شوہر کا عضو بہت چھوٹا ہے، وہ میرے ساتھ ہمستری بھی نہیں کر پاتے، اور فورا ڈسچارج ہو جاتے ہیں اور میں ہمیشہ ادھوری رہ جاتي ہوں ، ہماری شادی کو 5 سال ہو گئے کوئی بچہ بھی نہیں میرے شوہر نے بہت علاج بھی کروایا لیکن ٹھیک نہیں ہوئے،میرے شوہر اپنے ہاتھ سے مجھے ڈسچارج کر دے، کیا یہ جائز ہے ؟ میرے شوہر کہتے میں اپنے ہاتھ سے کر لیا کرو کیا یہ جائز ہے ؟ میرے شوہر کہتے آج کل جو پلاسٹک کے عضو آئے ہوئے ہیں وہ لے لو اور اسے استعمال کر لو کیا یہ جائز ہے؟ میرے والدین وفات پا چکے ہیں ،بھائی بہن شادی شدہ ہیں طلاق بھی نہیں لے سکتی کسی کو کچھ بتا بھی نہیں سکتی اس میں شوہر کی بھی بدنامی ہوگی مہربانی کر کے بتایا جائے، ان تین میں سے کون سا کام میرے لیے جائز ہے؟
سائلہ کے لیے بوقت مجبوری سوال میں ذکر کردہ تینوں صورتوں میں سے پہلی صورت اختیار کرنے کی گنجائش ہے ،دوسری اور تیسری صورت شرعانا جائز اور گناہ ہے جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے ، تاہم اگر سائلہ کو اس طرح شوہر کے ساتھ زندگی گزارنا دشوار ہو، ممکنہ طور پر حرام میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو یا اولاد کی خواہش ہو تو شوہر سے طلاق یا خلع لے کر دوسری جگہ شادی کرنے میں بھی حرج نہیں ہے۔
كما في الفتاوى الشامية :ولان غاية مسها لذكره انه استمتاع بكفها وهو جائز قطعا (إلى قوله )كما اذا وضعت فرجها على يده ، فهذا كما ترى تحقيق الكلام "البحر "لا اعتراض عليه فافهم اھ(1 /535)۔