کیا میاں بیوی ایک دوسرے کے پوشیدہ حصوں کو چھو سکتے ہیں ، اور بچے کی پیدائش یا حیض کی وجہ سے اپنے شوہر کو ہاتھ سے انزال کر سکتی ہے ؟کیا شوہر اپنی بیوی کو حیض کے دنوں میں ہاتھ سے انزال کر سکتا ہے ؟
واضح ہو کہ حیض و نفاس کے علاوہ عام دنوں میں میاں بیوی کا ایک دوسرے کے پوشیدہ حصوں کو بلا حائل چھونا شرعاً جائز ہے،اس میں کوئی ممانعت نہیں ، البتہ حالت حیض میں شوہر کے لئے ناف سے لیکر گھٹنوں تک کے حصے کو بلاحائل چھونا شرعاً جائز نہیں جس سے احترازلازم ہے، جبکہ حالت حیض میں اگرشوہر یا بیوی کو شہوت کا غلبہ ہو تو میاں بیوی ایک دوسرے کو ہاتھ کے ذریعے فارغ کر سکتے ہیں ، تاہم اس کی عادت بنا لینے سے احتراز کر نا چاہیئے ۔
کمافی ردالمحتار:تحت قولہ(والاولی ترکہ) وعن أبي يوسف سألت أبا حنيفة عن الرجل يمس فرج امرأته، وهي تمس فرجه ليتحرك عليها هل ترى بذلك بأسا قال: لا وأرجو أن يعظم الأجر ذخيرة الخ (فصل فی النظروالمس ج6ص367ط:سعید)۔
وفی ردالمحتار: ويباح ما وراءه، وقيل يباح مع الإزار. اه وهو مفقود في حقه فحل لها الاستمتاع به ولأن غاية مسها لذكره أنه استمتاع بكفها وهو جائز قطعا وهو تحقيق وجيه؛ لأنه يجوز له أن يلمس بجميع بدنه حتى بذكره جميع بدنها إلا ما تحت الإزار فكذا هي لها أن تلمس بجميع بدنها إلا ما تحت الإزار جميع بدنه حتى ذكره الخ(باب الحیض ج1 ص292ط:سعید)۔