السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ دوران مباشرت بیوی کی شرمگاہ پرہاتھ رکھنا یا اسے مسلنا جائز ہے یا نہیں؟ اگر ایسا ہو گیا ہو تو اس کا کفارہ کیا ہے ؟ کیا اس سے نکاح پہ تو کوئی اثر نہیں پڑے گا ؟ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔
سوال میں مذکور طرزِ عمل سے شرعاً نکاح پر کوئی فرق نہیں پڑتا اور نہ ہی اس کی وجہ سے کوئی گناہ اور کفارہ لازم آتا ہے البتہ اگر یہ عمل بیوی کے لیے تکلیف اور اذیت کا باعث ہو تو اس سے احتیاط کرنا چاہیئے ۔
کما قال اللہ تعالی: نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ۪-فَاْتُوْا حَرْثَـكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ الآیۃ (آیتـ 223 سورۃ البقرۃ )
و فی رد المحتار: تحت (قولہ ومباشرتھا لہ) سبب ترددہ (إلی قولہ) إذا وضعت فرجھا علی یدہ فھذا کما تری(إلی قولہ) تحقیق وجیہ لأنہ یجوز لہ أن یلمس بجمیع بدنہ حتی بذکرہ جمیع بدنھا إلا ما تحت الإزار، فکذا ھی لھا أن تلمس بجمیع بدنھا إلا ما تحت الإزار جمیع بدنہ حتی ذکرہ، وإلا فلو کان لمسھا لذکرہ حراما لحرم علیھا تمکینہ من لمسہ بذکرہ لما عدا ما تحت الإزار منھا، وإذا حرم علیہ مباشرۃ ما تحت إزارھا حرم علیھا تمکینہ منھا فیحرم علیھا مباشرتھا لہ بما تحت إزارھا بالأولی اھ (کتاب الطھارۃ باب الحیض ج 1 صـ 293-292 ط: سعید)