اگر بیوی کے مخصوص ایام چل رہے ہوں ، اور اس کے دن پورے ہو جائیں ، اور چیک کر لیں کہ اب خون نہیں آ رہا ، اور پھر غسل کے بعد دخول کیا ، اور خون آجائے ،تو اس کے لۓ کیا حکم ہے ؟ میں نے چیک کرنے کے بعد ، کہ اب خون نہیں آ رہا اور سات دن ہو گئے تھے ایا م کے ، پھر دخول کیا ، لیکن دخول کے بعد پھر بیوی کو خون آنا شروع ہو گیا ، اس صورت میں شریعت کیا کہتی ہے ؟ اگر چیک کرنے کے بعد ایسا ہو ، جان بوجھ کر ایامِ حیض میں دخول نہیں کیا ، اس صورت میں کیا حکم ہے؟ براہِ کرم ہماری راہ نمائی فرمائیں ، ہم دونوں میاں بیوی بہت پریشان ہیں۔
جب عادت کے مطابق خون آنا بند ہوگیا تھا اور بیوی نے غسل بھی کر لیا تھا ، تو اس کے بعد سائل ، اس کے ساتھ ہمبستری کرنے کی وجہ سے شرعاًً گناہ گار نہیں ہوا ، مگر آئندہ کے لۓ اسے چاہیۓ کہ خون کے مکمل بند ہو جانے کا انتظار کر لیا کرے۔
فی الدر المختار : ثم هو كبيرة لو عامدا مختارا عالما بالحرمة لا جاهلا أو مكرها أو ناسيا فتلزمه التوبة ؛ و يندب تصدقه بدينار أو نصفه . و مصرفه كزكاة اھ (1/ 297)۔