جناب مفتی صاحب ! اسلام نے ازدواجی زندگی میں ہر طرح کی چھوٹ دی ہے سوائے ایّام حیض میں جماع کے اور پیچھے سے داخل ہونے پر اس کے علاوہ ہر قسم کے لطیف کو حلال کہا ہے، کیا یہ درست ہے ؟ دوسرا میرے شوہر کہتے ہیں کہ منہ کے ذریعہ جنسی تسکین حاصل کرنے کی ممانعت نہیں ہے، نہ ہی ایک دوسرے کی شرمگاہ کے ساتھ کھیلنے اور چومنے کی۔ برائے مہربانی ان باتوں کی وضاحت فرمائیں ۔
بیوی کےساتھ ہمبستری کے دوران میاں بیوی کا ایک دوسرے کو دیکھنا چھونا ، چومنا وغیرہ تمام امور جائز ہیں، البتہ منہ کے ذریعے خواہش نفسانی پورا کرنا یا ایک دوسرے کے اعضا مخصوصہ کو منہ میں لینا اور چاٹنا وغیرہ طبع سلیم کے خلاف ہونے کی وجہ سے ناپسندیدہ اور خلاف فطرت ہے، اس سے احتراز چاہیے۔
قال اللہ تعالیٰ: ﴿فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُم﴾ (البقرة: 223)
وفي مشكاة المصابيح: وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ملعون من أتى امرأته في دبرها» . رواه أحمد وأبو داود (2/ 953)
وفي الفتاوى الهندية: في النوازل إذا أدخل الرجل ذكره في فم امرأته قد قيل يكره وقد قيل بخلافه كذا في الذخيرة. (5/ 372)