السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، جناب مفتی صاحب! میں ایک کر کٹ ٹیم میں کھیلتا ہوں جس کا ایک واٹس ایپ گروپ بھی بنا ہوا ہے، اس گروپ پر مختلف مسالک کے لوگ موجود ہیں، مسئلہ کچھ یوں ہے کہ کچھ دن پہلے گروپ پر دینی اور سیاسی گفتگو کو ایڈمن کی جانب سے منع کر دیا گیاتھا، ایک صاحب جو دیوبند مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں، اس کے بعد انھوں نے خادم رضوی صاحب کی تصویر والاایمووٹیکن جس میں وہ ’’او دلے‘‘ کہہ رہے ہیں، گروپ پر سینڈ کرنا شروع کیا کچھ دن بعد ایک دوسرے صاحب نے جو خادم رضوی کو مانتے ہیں اورغالباً بریلوی مسلک سے ہیں، انھوں نے اس کے جواب میں طارق جمیل کی ایک تصویر پر ’’سرکار مجھے کیوں پکارا‘‘ لکھ کر سینڈ کر دی جس کے بعد دیوبند مسلک والے صاحب کافي غصہ ہوگئے اور کہا کہ جب تک یہ معافی نہیں مانگے گا، میں نہیں کھیلوں گا اور یہ کہہ کر ٹیم و گروپ دونوں چھوڑ دييے، میرا سوال یہ ہے کہ اس معاملے میں ان دیوبندی مسلک والے بھائی صاحب کے لیے کیا حکم ہے؟
عوام الناس کے لیے چاہے وہ کسی بھی مسلک سے تعلق رکھتے ہوں، دوسرے مسلک کے معتبر اور قابل قدر و احترام شخصیات کے متعلق نازیبا الفاظ استعمال کرنے، ان کی توہین و تحقیر کرنے اور اس کی وجہ سے ایک دوسرے سے نفرت رکھنے سے احتراز لازم ہے، مذکور دونوں حضرات کو چاہیے کہ اس قسم کے بحث و مباحثہ کرنے سے اجتناب کریں، اور ایک دوسرے سے معافی تلافی کر کے قطع تعلق کو ختم کر دیں۔
وفي الترغیب والترھیب: وعن عبادة بن الصامت أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: ’’ليس من أمتي من لم يجل كبيرنا ويرحم صغيرنا ويعرف لعالمنا، رواہ ٲحمد بٳسناد حسن‘‘ اھـ (۱/۱۱۴)۔
وفیه أیضا: وعن أبي أمامة عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: ’’ثلاث لا يستخف بهم إلا منافق ذو الشيبة في الإسلام وذو العلم وإمام مقسط‘‘ (رواہ الطبراني)اھـ(۱/۱۱۵) واللہ أعلم!