ایک عورت کا سابقہ شوہر اس عورت کے دوسرے نکاح میں گواہ کے طور پر آتا ہے، جب کہ نکاح میں دونوں دلہن اور دولہا کی طرف سے کل ملا کر دو گواہ ہوتے ہیں، ایک دلہن کا سابقہ شوہر ایک دوسرا کوئی اور آدمی، کیا نکاح ہو جائے گا؟ یا پھر سابقہ شوہر کی گواہ کے طور پر موجودگی سے نکاح پر خرابی آئے گی ؟ یہ سب کے سب مسلم حنفی ہیں۔
عورت کے دوسرے نکاح میں سابقہ شوہر کا بطور گواہ پیش ہونا بھی درست ہے ، اس سے نکاح میں کوئی خرابی لازم نہیں آئے گی۔
كما في الدر المختار : (و) شرط (حضور) شاهدين (حرين ) أو حر وحرتين ( مكلفين سامعين قولهما معا) على الأصح۔اھ (3/22)
وفي الفتاوى الهندية: وشرط في الشاهد أربعة أمور الحرية والعقل والبلوغ والإسلام۔اھ (1/267)
جھوٹ بول کر تجدیدِ نکاح کے نام سے نکاح کرانا-صحتِ حلالہ کے لئے بغیر انزال کے دخول کا حکم
یونیکوڈ وکیل و گواہ 0