السلام علیکم! نفل نماز میں ایک سے زیادہ نیتیں ہو سکتی ہیں؟ خاص کر معاذ اللہ فجر کی قضاء کی ؟
مسجد میں صفوں کے درمیان لکڑی کی عارضی دیواریں رکھی جاتی ہیں، کچھ افراد ان کو ان کی جگہ سے آگے بڑھاتے ہوئے ان کی آڑ میں نمازی کو پار کرجاتے ہیں، کیا یہ صحیح ہے؟
قرآن اور سنت کی دعا میں صیغہ تبدیل کرسکتے ہیں ، جیسے "ربنا" کو "ربی" یا "لم یہلکنا" کو " لم یہلکنی" کہنا ؟
حکومتی پابندی یا کسی وجہ سے مسجد کے بجائے گھر میں جماعت قائم کرنا پڑے اور اگر امام محسوس کرے کہ وہ گناہ گار ہے یا دین کا اتنا علم وعمل نہیں رکھتا ، تو کیا انفرادی نماز کی اجازت ہے؟
نفل نماز میں دو یا دو سے زائد نفل نمازوں (مثلاً تحیۃ الوضو ، تحیۃ المسجد وغیرہ) کی نیت کرنا تو درست ہے، لیکن نفل نماز میں فجر کی قضاء کی نیت کرنا درست نہیں، اور اس سے فجر کی نماز ذمہ سے ساقط بھی نہ ہوگی ، اس لۓ قضاء نماز کے لۓ علیحدہ نیت کرنا ضروری ہے۔
جبکہ مسجد میں رکھے ہوئے ستروں (لکڑیوں) کو اگر کوئی شخص نمازی کے سامنے رکھ کر، اس کی آڑ میں سامنے سے گزر جائے، تو اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں، تاہم جہاں سے وہ لکڑی اُٹھائی ہو ، پھر وہیں پر اُسے رکھنا چاہیۓ۔
قرآن و حدیث میں جو دعائیں منقول ہیں ، ان کے صیغوں میں موقع محل کی مناسبت سے تبدیلی کی جاسکتی ہے اور اس طرح کرنے پر وہ قرآن و حدیث سے ماخوذ دعا کہلائی جاۓ گی ۔
ایسی صورت میں جو شخص موجودہ افراد میں علم و تقویٰ میں سب سے افضل ہو تو اُسے جماعت کرانا چاہیۓ۔
فی حاشیة الطحطاوی : ثم أنه إن جمع بین عبادات الوسائل فی النیة صح کما لو اغتسل لجنابة و عید و جمعة اجتمعت و نال ثواب الکل و کما لو توضأ لنوم و بعد غیبة و أکل لحم جزور و کذا یصح لو نوی نافلتین أو أکثر کما لو نوی تحیة مسجد و سنة و ضوء و ضحیٰ و کسوف و المعتمد أن العبادات ذات الأفعال یکتفی بالنیة فی أولها و لا یحتاج إلیها فی کل جزء إکتفاء بإنسحابها علیها و یشترط لها الإسلام و التمیز و العلم بالمنوی و أن لا یأتی بمناف بین النیة و المنوی اھ (ص: ۲۱۶)۔
و فی اللباب فی شرح الکتاب : ثم إن كانت الصلاة نفلا يكفيه مطلق النية، و كذلك إن كانت سنة في الصحيح هداية اهـ . و التعيين أفضل و احوط ، و لابد من التعيين في الفرض كظهر و عصر مثلا ، و إن لم يقرنه باليوم أو الوقت ، لو أداء ، فلو قضاء لزم التعيين ، و سيجئ و مثله الواجب كوتر و نذر و سجود تلاوة ، و لا يلزم تعيين عدد الركعات ، لحصولها ضمنا ، فلا يضر الخطأ في عددها ، و المعتبر في النية عمل القلب ؛ لأنها الإرادة السابقة للعمل اللاحق . فلا عبرة للذكر باللسان إلا إذا عجز عن إحضار القلب لهموم أصابته فيكفيه اللسان . (۱/ ۶۳)۔
و فی حاشية ابن عابدين : فإن كان معه شيء يضعه بين يديه ثم يمر و يأخذه ، و لو مر اثنان يقوم أحدهما أمامه و يمر الآخر و يفعل الآخر هكذا يمران ، و إن معه دابة فمر راكبا أثم ، و إن نزل و تستر بالدابة و مر لم يأثم ، و لو مر رجلان متحاذيين فالذي يلي المصلي هو الآثم قنية . أقول : و إذا كان معه عصا لا تقف على الأرض بنفسها فأمسكها بيده و مر من خلفها هل يكفي ذلك؟ لم أره اھ (1/ 636)۔
و فی سنن ابن ماجه : عن ثوبان ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : «لا يؤم عبد فيخص نفسه بدعوة دونهم ، فإن فعل فقد خانهم» اھ (1/ 298)۔
و فی حاشية ابن عابدين : (قوله لنفسه و أبويه و أستاذه المؤمنين) (إلی قوله) و في رواية «أنه - صلى الله عليه و سلم - سمع رجلا يقول: اللهم اغفر لي ، فقال: و يحك لو عممت لاستجيب لك» و في أخرى «أنه ضرب منكب من قال اغفر لي و ارحمني ، ثم قال له : عمم في دعائك ، فإن بين الدعاء الخاص و العام كما بين السماء و الأرض» و في البحر عن الحاوي القدسي : من سنن القعدة الأخيرة الدعاء بما شاء من صلاح الدين و الدنيا لنفسه و لوالديه اھ (1/ 521)۔
و فی الفتاوى الهندية : الأولى بالإمامة أعلمهم بأحكام الصلاة . هكذا في المضمرات (إلی قوله) فإن تساووا فأورعهم فإن تساووا فأسنهم كذا في الهداية فإن كانوا سواء في السن فأحسنهم خلقا فإن كانوا سواء فأحسبهم فإن كانوا سواء فأصبحهم وجها . كذا في فتح القدير أي أكثرهم صلاة بالليل ، كذا في الكافي فإن استووا في الحسن فأشرفهم نسبا . كذا في فتح القدير فكل من كان أكمل فهو أفضل ؛ لأن المقصود كثرة الجماعة و رغبة الناس فيه أكثر كذا في التبيين فإن اجتمعت هذه الخصال في رجلين يقرع بينهما أو الخيار إلى القوم . كذا في الخلاصة . (1/ 83)۔
سنن زوائد یا نفل کی چار رکعات میں قعدۂ اولیٰ میں تشہد کے بعددرود شریف اور ادعیۂ ماثورہ پڑھنا
یونیکوڈ نوافل 0