مفتی صاحب! مجھے معلوم کرنا ہے کہ میرے والد کے بینک اکا ؤنٹ میں ان کے کچھ پیسے تھے جس کی آن لائن رسائی میرے پاس موجود تھی، جس کا علم میرے والد کو ان کی زندگی میں تھا اور اُن کے انتقال کے بعد میں نے اپنے بڑے بھائی ( مدثر فاروق) کی حمایت سے وہ پیسے اپنے اکا ؤنٹ میں ٹرانسفر کر لئے، تاکہ ہمیں غیر ضروری بینک کے چکروں میں نہ پڑنا پڑے، میرے والد کے انتقال کے بعد میرے بھائی نے مجھے کہا کہ پیسے تقسیم کر لیتے ہیں، جس پر میں نے منع کر دیا یہ سوچ کر کہ میرے مرحوم والد کی بقیہ جائیداد ( جس میں ہمارا مکان ، ایک پلاٹ اور بقیہ چیزیں شامل ہیں) جب بٹےگا تو یہ رقم بھی تب ہی بٹ جائے گی، ورنہ کسی کے ہاتھ کچھ نہیں جائے گا اور یہ پیسے ایسے ہی خرچ ہو جائیں گے؟ پھر یوں ہوا کہ ہمارے ابا کا مکان (جو کہ ہماری مرحومہ دادی کے نام ہے) بکنے کے کچھ معاملات آگے بڑھے تو ہم اس کو اپنے نام کرانے کے لئے اسی رقم میں سے جو میرے پاس بطور امانت رکھی تھی، سب ورثہ کی اجازت سے کچھ پیسے خرچ کئے، تا کہ قانونی تقاضے پورے ہو سکیں، اب کیوں کہ کرونا کی یہ وبا پھیل گئی ہے اور ذریعہ معاش بھی بہت متاثر ہوا ہے اور ہمارے مکان کے قانونی اور مالی معاملات کے تقاضے پورے ہو گئے ہیں تو میں بطور اپنے مرحوم والد کا اس دنیا میں نائب اور امین ہونے کی حیثیت سے یہ چاہتا ہوں کہ کم از کم یہ پیسے بالکل شرعی طور پر ہم تقسیم کر لیں، جس میں آپ کی راہ نمائی درکار ہے، جو رقم اب ہمارے پاس موجود ہے، وہ کل ٹوٹل : پچیس لاکھ انتالیس ہزار باسٹھ روپے (062، 25،39) ہے اور ورثاء میں درج ذیل لوگ شامل ہیں:
ایک بیوہ (اہلیہ مرحوم) دو بیٹیاں، دو بیٹے، برائے مہربانی ہماری راہ نمائی فرمائیں اور ہم کو بالکل آسان الفاظ میں قرآن وسنت کی روشنی میں نام شمار کر کے یہ بتادیں کہ کسی فرد کے حصے میں کتنا حصہ آئے گا تاکہ ہم باآ سانی اس رقم کو تقسیم کر سکیں اور میری یہ ذمہ داری اللہ کے حکم سے پوری ہو جائے ؟ والسلام
سائل، اس کی والدہ اور بھائی بہنوں کی رضامندی سے اگر فی الحال مرحوم کے ترکہ میں سے فقط مذکور رقم (2539062) تقسیم کرنی ہو تو اس میں سے مرحوم کی بیوہ کو ’’تین لاکھ سترہ ہزار تین سو بیاسی‘‘ (317،382.75) روپے ، ہر بیٹے کو ’’ سات لاکھ چالیس ہزار پانچ سو بیالیس ‘‘ (740،542.822) روپے اور ہر بیٹی کو’’ تین لاکھ ستر ہزار دو سو اکہتر‘‘ (370271.411) روپے دیئے جائیں۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1