کریڈٹ کارڈ کا استعمال جائز ہے یا نہیں؟
کریڈٹ کارڈ کا استعمال عام حالات میں اور بلاضرورت جائز نہیں، کیونکہ اس میں معاہدہ کے وقت صارف اس بات پر آمادہ ہوتا ہے کہ وہ لیٹ پیمنٹ کی صورت میں سود ادا کرے گا، اس لئے اس کے استعمال سے احتراز کرنا چاہیئے، البتہ اگر کسی نے انتہائی ناگزیر حالت میں یہ کارڈ لیا ہو تو اس کا استعمال کسی بھی جگہ خریداری کے لئے اس شرط پر جائز ہے کہ جاری کردہ بلوں کی قیمت مقررہ مدت کے اندر ادا کر دی جائے اور نقدی کے حصول کے وقت کوئی زائد ٹیکس نہ لیا جائے، کیونکہ زائد ٹیکس خدمات کی لاگت کے مقابلے میں نہیں، بلکہ قرض کے مقابلے میں ہو گا جو خالص سود ہے۔
ففي بحوث في قضايا فقهية معاصرة: وعلى هذا فان مصدر البطاقة لا يعدو تجاه حاصل البطاقة من أن يكون محتالا عليه اولاً . ثم مقرضا له عند ما يسدد دينه إلى التاجر، فالجائز التي يقدمها مصدر البطاقة الى حاملها هي جائزة من قبل المقرض الى المستقرض، فهو تبرع محض لا قمار فيها ولا ربا اھ (۲/ ۱۶۴)۔
کریڈٹ کارڈ کا استعمال اور اس پر ملنے والے پوائنٹس و ڈسکاؤنٹ وغیرہ استعمال کرنےکا حکم
یونیکوڈ کریڈٹ کارڈ 0