مجھے ایک شخص سے بزنس ڈیل ملتا ہے۔ یعنی وہ مجھے کچھ نقد رقم دیتا ہے، اور مجھے وہ رقم 12 ماہ کی قسط میں واپس کرنی ہوگی۔ بدلے میں میں اسے نیا کریڈٹ کارڈ فراہم کروں گا اور وہ کریڈٹ کارڈ استعمال کرے گا اور کریڈٹ کارڈ کے واجبات کی ادائیگی کرے گا۔ براہ کرم مجھے بتائیں کہ کیا یہ معاہدہ اسلامی نقطہ نظر سے ٹھیک ہے؟ یہ بھی بتائیں کہ کیا اسلامی نقطہ نظر سے کریڈٹ کارڈ کا استعمال درست ہے؟
صورت مسئولہ میں مذکور شخص کا سائل کو رقم دیکر بارہ ماہ کی قسطوں پر واپس لینا شرعاً قرض کے زمرہ میں آتا ہے اور اس کے عوض سائل کا اس کو کریڈٹ کارڈ دینا قرض پر نفع پہنچانے کے حکم میں ہے، جبکہ قرض دے کر اس کے عوض نفع لینا یا دینا ازروئے شریعت سود ہے، لہٰذا صورت مسئولہ میں درج کردہ تفصیل کے مطابق مذکور معاملہ سر انجام دینا شرعاً جائز نہیں بلکہ سود پر مبنی ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے، جس سے احتراز لازم ہے، جبکہ کریڈٹ کارڈ کے اجراء کے وقت چونکہ مقررہ وقت پر قرض ادا نہ کرنے کی صورت میں سود لاگو ہونے کی شرط لگائی جاتی ہے اس لئے کریڈٹ کارڈ کا استعمال عام حالات میں شرعاً ناجائز ہے، جس سے احتراز لازم ہے ، البتہ اگر کسی جگہ کریڈٹ کارڈ کے بغیر خریداری وغیرہ ناممکن ہو اور حکومتِ وقت کی طرف سے کریڈٹ کارڈ کا استعمال لازم ہو ، تو ایسی مجبوری کی صورت میں کریڈٹ کارڈ کا لینا اور اس کا استعمال اس شرط کے ساتھ جائز ہوگا کہ مقررہ وقت کے اندر ہی قرض کی ادائیگی کا پورا اہتمام کیا جائے ، تاکہ عملاً سودی رقم دینا نہ پڑے۔
كما في الدر المختار : وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن الخ( فصل في القرض، ج 5، ص 166، ط : سعيد)-
و في رد المحتار : تحت (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به (إلى قوله) وتعقبه الحموي بأن ما كان ربا لا يظهر فيه فرق بين الديانة والقضاء على أنه لا حاجة إلى التوفيق بعد الفتوى على ما تقدم أي من أنه يباح الخ( مطلب كل قرض جر نفعا حرام، ج 5، ص 166، ط : سعيد)-
وفي بحوث في قضايا فقهية معاصرة : وهناك نوع آخر من الجوائز، تعطى على استخدام بطاقات الائتمان والعادة في هذه البطاقات أن حاملها يحصل على نقاط عند كل استخدام له لتلك البطاقة عند شراء بضاعة أو خدمة، وإن هذه النقاط تدخر في حسابه عند مصدر البطاقة؛ فكلما بلغت النقاط حداً معيناً، استحق حامل البطاقةجائزة من قبل المصدر. وحكم هذه الجوائز موقوف على معرفة علاقة مصدر البطاقة مع حاملها (إلى قوله) وعلى هذا، فإن مصدر البطاقة لا يعدو تجاه حامل البطاقة من أن يكون محتالاً عليه أولاً ، ثم مقرضاً له عندما يسدد دينه إلى التاجر، فالجائزة التي يقدمها مصدر البطاقة إلى حاملها هي جائزة من قبل المقرض إلى المستقرض، فهو تبرع محض، لا قمار فيه ولا رباً : أما القمار، فلأن حامل البطاقة لم يعلق شيئاً من ماله على خطر . وأما الربا، فإنه يتحقق بإعطاء زيادة من المستقرض إلى المقرض، وليس في العكس، فلو أعطى مقرض شيئاً للمستقرض، علاوة على القرض، فإنه تبرع محض لا يلزم منه الربا الخ( الجوائز على بطاقات الائتمان ، ج 2، ص 164، ط : مكتبة دار العبوم ، كراتشي)-
کریڈٹ کارڈ کا استعمال اور اس پر ملنے والے پوائنٹس و ڈسکاؤنٹ وغیرہ استعمال کرنےکا حکم
یونیکوڈ کریڈٹ کارڈ 0