میں نے کورٹ سے خلع لی ہے ، خلع کا کیس میں نے چھ مہینے پہلے دائر کیا، اور اسی خلع کے دوران میں تین دفعہ اپنے شوہر کے پاس گئی، لیکن وسائل کم ہونے کی وجہ سے واپس آگئی، لیکن آخری دفعہ اپنے شوہر کے پاس گئی اللہ کی رضاء کے لیے اس رشتے کو قائم رکھنے کے لیے ، لیکن بنا کسی وجہ سے واپس آکر خلع لے لی، کیا میری خلع ہو گئی ہے یا نہیں، اس خلع کے وقت میرے شوہر بھی موجود تھے، انھوں نے مجھے طلاق دینے سے منع کر دیا، اور کہتا ہے کہ یہ خلع نہیں ہوتی ہے ، شریعت کے مطابق میں ان کے نکاح میں ہوں یا نہیں، پلیز فتوی دیں، کہ میں اپنے شوہر کے نکاح میں ہوں یا نہیں۔
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقود مالیہ کی طرح ایک عقد ہے، جس صحت کے لئے شرعا ًمیاں بیوی کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب وقبول شرط ہے جوکہ عموما یکطرفہ عدالتی خلع میں مفقودہوتی ہے، لہذا سائلہ نے اگرشوہر یا اسکے وکیل کی اجازت درضامندی کے بغیر یکطرفہ طور پر عدالت سے خلع کی ڈگری حاصل کی ہوتو اس سے سائلہ کانکاح ختم نہیں ہوا بلکہ بدستور قائم ہے، اور دونوں حسب میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کر سکتے ہیں۔
كما في احكام القرآن للجصاص: قال أصحابنا إنهما لا يجوز خلعهما إلا برضى الزوجين فقال أصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين لأن الحاكم لا
يملك ذلك فكيف يمكه الحكمان وإنما الحكمان وكيلان لهما أحدهما وكيل المرأة والأخروكيل الزوج في الخلع (الى قوله) وكيف يجوز للحكمين أن يخلعا بغير رضاه ويخر جا المال من ملكها اھ ( ج 3 ص (153).
وفي التاتارخانية: الخلع عقد يفتقر الى الايجاب والقبول يثبت الفرقة ويستحق عليها العوض .... الخ ( ج 3 ص 453) –