کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
ہم اپنی بھتیجی کا خلع لینا چاہتے ہیں ،خلع کی وجہ یہ ہے کہ اس کے سسرال والے اس پر تشدد کرتے ہیں ،آخری بار اس کے شوہر نے اس کو مارا ،اور اس کے منہ پر تکیہ رکھ کر اس کے اوپر بیٹھ گیا،جس سے اس کی سانس رک گئی تھی ،اور ابھی ان کے سات آٹھ لوگوں نے مل کر ہمارے بھائی کو پکڑ کر مارا ،اس کی داڑھی نوچ نوچ کر ختم کردی ،پھر شور شرابا سن کر میں باہر آیا ،تو انہوں نے مجھے بھی بہت مارا ،اب لڑکی کہتی ہے کہ اگر گھر والے مجھے واپس اسی گھر میں بھیجیں گے ، تو میں خود کو ختم کردوں گی ،ان وجوہات کی بنا ء پر لڑکی خلع کا مطالبہ کرسکتی ہے ؟راہ نمائی فرماکر ممنون فرمائیں!
سوال میں ذکر کردہ وضاحت اگر درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو تو مذکور شخص کا سائل کی بھتیجی (اپنی بیوی ) کے ساتھ مذکور طرزِ عمل انتہائی نامناسب اور شرعاً ناجائز ہے ،شخص مذکور کو چاہیئے کہ اپنی ان حرکات سے باز آکر اپنی بیوی اور اس کے رشتہ داروں سے معافی مانگے ،اور اپنا گھر بسانے کی کوشش کرے ، تاہم اگر حتٰی الامکان کوششوں کے باوجود شخص مذکور اپنی ان حرکتوں سے باز نہ آئے ،اور دونوں کے درمیان ہر وقت لڑائی جھگڑے کی وجہ سے حدود اللہ پر قائم رہتے ہوئے رشتۂ نکاح کو برقرار رکھنا مشکل ہو ، تو ایسی مجبوری کی صورت میں سائل کی بھتیجی طلاق یا خلع کا مطالبہ کرسکتی ہے ، اور اس صورت میں وہ گناہ گار بھی نہ ہوگی ۔
چنانچہ لڑکی والوں کو چاہیئے کہ شوہر کو طلاق بالمال یا خلع پر آمادہ کیا جائے ،لیکن اگر شوہر اس کیلئے بھی راضی نہ ہو ،تو بوقتِ مجبوری عدالت میں اپنا مقدمہ گواہوں اور ثبوتوں کے ساتھ ثابت کرسکتے ہیں ، اور عدالت قانونی کار روائی کے بعد فسخِ نکاح کی ڈگری جاری کرے ،خلع کی ڈگری جاری نہ کرے ،چنانچہ طلاق کی صورت میں عورت عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔
کما قال اللہ تعالی :الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ وَ لَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَ مَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ (البقرة/229ا )۔
و فی الرد : (قوله: للشقاق) أي لوجود الشقاق وهو الاختلاف والتخاصم. وفي القهستاني عن شرح الطحاوي: السنة إذا وقع بين الزوجين اختلاف أن يجتمع أهلهما ليصلحوا بينهما، فإن لم يصطلحا جاز الطلاق والخلع اھ(3/144) والله اعلم