بخدمت جناب مفتی صاحب ، نہایت ادب واحترام کے ساتھ درج ذیل نکات پر شرعی اور قانونی اور اسلامی فتوی جاری فرمادیجئے، یہ کہ عورت نے خلع کی درخواست دائر کی، جبکہ میں بحیثیت شوہر اپنے گھرکو آباد رکھنا چاہتا تھا، لیکن عدالت نے خلع کے احکامات صادر فرمادئیے، نہ تو میری رضامندی پوچھی اور نہ ہی خلع میں میرے دستخط لئے گئے،(2) یہ کہ اسلامی طریقے سے اس طرح کی خلع کے کتنے عرصے بعد اگر دونوں فریقین رضامندی سے رجوع کرنا چاہیں تو اس کی کیا کنڈیشن ہوگی، کیونکہ دوران عدت ہی لڑکی نے اپنے شوہر سے رابطہ شروع کردیا تھا، جبکہ اس کے گھر والے انکار کر رہے ہیں، (3) یہ کہ دوبارہ رجوع کرنے کے لئے ماں باپ یا گھر والوں کی رضامندی ضروری ہے یا پھر شرعی طور پر رجوع کیا جاسکتا ہے۔
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے، جس کی درستگی کے لئے فریقین کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے، لہٰذا اگر سائل یا اس کی جانب سے مقرر کردہ وکیل نے واقعۃً خلع کے کاغذات پر نہ دستخط کیے ہوں ، اور نہ ہی اس پر رضامندی کا اظہار کیا ہو تو ایسی صورت میں عدالت کی جانب سے جاری کردہ یکطرفہ خلع کی ڈگری سے چونکہ میاں بیوی کا نکاح ختم نہیں ہوا ، بلکہ بدستور برقرار ہے ، اس لئے میاں بیوی بغیر تجدیدِ نکاح کیے حسبِ سابق ساتھ زندگی بسر کرسکتے ہیں ، جبکہ سائل کے گھر والوں کا انکار کرنا اور بیوی کو شوہر کے ساتھ گھر بسانے نہ دینا شرعاً ناجائز ہے ، جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار بھی ہورہے ہیں ، جس پر انہیں بصدقِ دل توبہ و استغفار کرتے ہوئے میاں بیوی کے درمیان رکاوٹ بننے سے احتراز لازم ہے۔
کما فی احکام القرآن للجصاص: قال أصحابنا: إنهما لا يجوز خلعهما إلا برضى الزوجين, فقال أصحابنا: ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين; لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان؟ وإنما الحكمان وكيلان لهما أحدهما وكيل المرأة والآخر وكيل الزوج في الخلع(الی قولہ) وكيف يجوز للحكمين أن يخلعا بغير رضاه ويخرجا المال عن ملكها الخ ( ج2 ص 239 مطلب البیان من اللہ تعالی علی وجہین ط العلمیہ)۔
وفی بدائع الصنائع: ولأبي حنيفة أن الخلع في معنى المبارأة؛ لأن المبارأة مفاعلة من البراءة والإبراء إسقاط فكان إسقاطا من كل واحد من الزوجين الحقوق المتعلقة بالعقد المتنازع فيه كالمتخاصمين في الديون الخ ( ج 1 ص 151 فصل وأما حکم الخلع ط سعید)۔
وفی الھدایۃ: وإذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به(باب الخلع ج 2 ص96 ط: انعامیہ)۔