میں نے عرصہ چھ سال پہلے عدالت سے خلع لی بوجہ شوہر ہیروئین کا نشہ کرتا تھا اور مارتا تھا اور یونین کونسل کے ذریعہ بھی طلاق نامہ حاصل کر لیا ھے مگر میرا سابقہ شوہر کو سمن جانے کے باوجود وہ کورٹ میں حاضر نا ھوا اور یونین کونسل بھی حاضرنا ھوا، نا ھی طلاق کے لیے رضا مند ھوا ۔ کیا میری خلع موثر ھے اور کیا کسی اور سے میں دوبارہ نکاح کر سکتی ھوں ؟
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقود مالیہ کی طرح ایک عقد ہے جسکی صحت کے لیے فریقین کی باہمی رضامندی سے باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے جو کہ عدالتی خلع کی یکطرفہ دیگریوں میں عموما یہ شرط مفقود ہوتی ہے جسکی وجہ سے ایسی ڈگری کے جاری ہو جانے کے باوجو د شرعاً نکاح ختم نہیں ہوتا بلکہ حسب سابق قائم رہتا ہے، اس لیےمحض اس ڈگری کوبنیاد بناکر کسی دوسری جگہ نکاح کرنا درست نہیں۔
تاہم اگرسائلہ اپنے کورٹ کیس کی مکمل تفصیل کسی قریبی دارالافتاء میں جمع کرکے خاص اس سے متعلق حکم شرعی معلوم کرکے اس کے مطابق عمل کرلے، تو یہ زیادہ بہترہے۔
کما في المبسوط لشمس الدين السرخسي :
(قال) والخلع جائز عند السلطان وغيره لانه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود وهو منزلة الطلاق الخ ( ج: 1 ص: ١٣)-