کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے متعلق کہ میری بیٹی جس کا نام علیزہ ہے، ہم نے اس کی رضامندی سے اس کا نکاح کروایا تھا، جو کہ تقریباً ایک سال تک چلا، لیکن ایک سال یہ رشتہ چلنے کے بعد گھریلو ناچاقی کے پیشِ نظر ہم نے اپنی بیٹی کی رضامندی سے اس کا خلع بواسطہ وکیل کروالیا، جس میں ہماری ملاقات ہمارے سابقہ داماد" جس کا نام عبد الہادی ہے " سے نہیں ہوئی اور یہ تمام تر کورٹ کے معاملات وکیل کے ذریعہ ہوئے، چنانچہ اب ہمارا سابقہ داماد یہ چاہتا ہے کہ یہ رشتہ دوبارہ قائم ہوجائے تو شریعت کی روشنی میں علماء کرام رہنمائی فرمادیں کہ خلع کے بعد دوبارہ سابقہ شوہر سے نکاح کی کیا حیثیت ہے، خلع کے وہ پیپر جو ہمیں وکیل کے ذریعہ حاصل ہوئے اور اس کا اردو ترجمہ سوالیہ پرچہ کے ساتھ منسلک ہے۔
نوٹ! سائل کی بیٹی اور داماد نے ایک اسٹامپ پیپر بنوایا، جس میں دونوں نے خلع کے ذریعہ اس نکاح کو ختم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، اسٹامپ پیپر پر میاں بیوی کے نشانِ انگشت اور دستخط ثبت ہیں اور اسٹامپ پیپر سوال کے ساتھ منسلک ہے۔
سوال کے ساتھ منسلکہ اسٹامپ پیپر ( خلع نامہ ) اگر مطابق اصل ہو ، اس میں کسی قسم کی جعلسازی سے کام نہ لیا گیا ہو، اور اس پر سائل کی بیٹی اور داماد نے اپنی مرضی اور اپنے اختیار سے دستخط کئے ہوں تو اس سے سائل کی بیٹی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہو کر دونوں میاں بیوی کا نکاح ختم ہوچکا ہے، چنانچہ اب رجوع نہیں ہوسکتا، البتہ اگر دونوں میاں بیوی دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہیں تو اس کے لئے باضابطہ گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ تجدیدِ نکاح لازم ہوگا، تاہم اس نکاح کے بعد آئندہ کے لئے شوہر کو فقط دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔