کیا میں خلع کا کیس دائر کرسکتی ہوں اور اسلام اسکی اجازت دیتا ہے ؟ کیا اگر میرا شوہر مجھے مارتا پیٹتا بھی ہو ,اس کو طبی مسائل بھی ہوں جس کی وجہ سے وہ جاب بھی نہ کر پاتا ہو ,ہمارے ضروریات کو پورا نہ کر تاہو ، اور مجھ سے یا میرے بچوں سے بات کیے کئی کئی مہینے ہو جاتے ہیں، فی الحال دوسرے ملک میں رہتا ہے، اور اس کا خاندان بھی اس معاملہ میں فکر نہیں کر تا کہ علاج وغیرہ کروایاجائے اور میری بات بالکل بھی نہیں مانتے , میرے تین بچے بھی ہیں ان سے لیکن ایسی زندگی گذار رہی ہوں جیسے بناشوہرکے ہوتی ہے۔
سوال میں ذکر کردہ وضاحت اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ سائلہ کا شوہر نان نفقہ نہیں دیتا اور انکی خیر خبر بھی نہ رکھتا ہو تو اس کا یہ عمل شرعا ً درست نہیں، بلکہ اسکی وجہ سے وہ گناہ گار ہو رہا ہے ، تاہم اگر سائلہ کیلئے خود اس معاملہ کو حل کرنا مشکل ہو تو خاندان کے معزز افراد کو بیچ میں ڈ ال کر اس کو سمجھانے کی کوشش کی جائے، انشاء اللہ امید ہےکہ مسئلہ کا حل نکل آئے گا لیکن اگر پھر بھی کوئی بہتری کی صورت نہ نکلے اورسائلہ کیلئے اس کے ساتھ نباہ ممکن نہ ہو ، اور وہ جدائی اختیار کرنا چاہتی ہو تو ایسی صورت میں شوہر سے طلاق بالمال یا پھر شوہرکی رضا مندی سے خلع کے ذریعہ خلاصی کی کوشش کی جاسکتی ہے ، اس صورت میں سائلہ گناہ گار بھی نہ ہو گی۔
قال اللہ تعالیٰ: فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ (البقرہ:229 )-
وفی الدرالمختار: (ولا بأس به عند الحاجة) للشقاق بعدم الوفاق (بما يصلح للمهر) بغير عكس كلي لصحة الخلع بدون العشرة وبما في يدها وبطن غنمها وجوز العيني انعكاسها.(3/441)-
وفی ردالمحتار: (قوله: للشقاق) أي لوجود الشقاق وهو الاختلاف والتخاصم. وفي القهستاني عن شرح الطحاوي: السنة إذا وقع بين الزوجين اختلاف أن يجتمع أهلهما ليصلحوا بينهما، فإن لم يصطلحا جاز الطلاق والخلع. اهـ. ط(3/441)-