السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ :میرا نام سید عادل شاہ ولد سید اقبال شاہ ہے ، اور میری بیوی کا نام اقراء عادل ولد طارق محمود(مرحوم) ہے ، ہماری شادی 22/02/21 کو ہوئی ، اور 26/12/21 کو اللہ پاک کے فضل سے ہماری بیٹی پیدا ہوئی ، بیٹی کے ایک سال کے ہونے پر میں نے جب دوسرے بچے کی خواہش کا اظہار کیا ، تو میری بیوی ناراض ہو کر اپنی والدہ کے ساتھ چلی گئی ، اور صرف چودہ ماہ کی بچی میرے پاس چھوڑ گئی ، میرے والدین اور میری بہنوں کے رابطہ کرنے پر بھی اپنے گھر تک کا پتہ بھی نہ بتایا ، کیونکہ یہ لوگ گھر تبدیل کر چکے تھے ، اور موبائل نمبر بھی تبدیل کر دیے ، کچھ ہی دنوں بعد میرے پرانے گھر کے پتہ پر گھر کے نئے مالکان کو ایک اخبار موصول ہوا ، جس کی اطلاع مالکِ مکان نے بذریعہ WhatsApp اپریل 11 ، 2023 رات 10:35 ، 21 رمضان مجھے دی، screenshot بھی بطورِ ثبوت پیش کر دیا ہے، یہ گھر 98-D2 جوہر ٹاؤن لاہور میں اپنی بیوی کی موجودگی میں 3 ماہ قبل چھوڑ چکا تھا ، اور اپنی بیوی کے ساتھ اپنے والدین کے گھر رہ رہا تھا، جبکہ بیوی کے شناختی کارڈ پر میرا مستقل پتہ درج تھا ، اور میرے والد کا پتہ بھی اس کے گھر والوں کو معلوم تھا، 12/04/23 کو جب میں نے اخبار لینے کی نیت سے جب پرانے گھر کے مالک کو فون کیا ، تو انہوں نے افطاری پر مصروفیت کی وجہ سے اگلے دن آنے کو کہا کہ اگلے دن جب اخبار وصول کیا ، تو اس پر میری بیوی کی طرف سے خلع کے دعوی کی بابت 07/04/23 کو عدالت میں طلبی کا حکم تھا ، جو کہ ایک ہفتہ پہلے ہی گزر گئی تھی ، اتوار کی چھٹی کے بعد 17/04/23 کو عدالت سے معلوم ہوا کہ 15/04/23 کو ہی خلع کا یک طرفہ فیصلہ مجھے سنے بغیر میرے خلاف سنا دیا گیا ہے، میں نے اس نیت سے انتظار کیا کہ ابھی یونین ثالثی کونسل طلب کرے گی ، تو اپنی ڈیڑھ سال کی بچی کے ساتھ پیش ہو کر اپنی بیوی کو منانے کی کوشش کرونگا ، اس دوران اپنے ذرائع سے متعلقہ یونین کونسل رابطہ کرنے کی کوشش کرتا رہا ، اور ایک دن میری سالی کے ملازم کے نمبر سے مجھے طلاق مؤثر سرٹیفکیٹ بذریعہ WhatsApp موصول ہوا ، میرے اس نمبر پر رابطہ کرنے پر اور جانچ پڑتال کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ سرٹیفیکیٹ دو نمبری اور رشوت دے کر اصل ثالثی کونسل کی بجاۓ 25 کلو میٹر دور بغیر کوئی اپنا رہائشی پتہ لکھوائے، ساز باز کر کے مجھے ایک دفعہ بھی طلبی نوٹس کسی بھی اصل اور پرانے پتے پر بجھوائے بغیر ،طلاق کی ڈگری جاری کروالی ہے ،گذارش ہے کہ میں اللہ اور رسول پاک کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں کئی دفعہ حج اور عمرے کر چکا ہوں ، میں حلفاً کہتا ہوں میں نے آج تک کبھی اپنی بیوی پر ہاتھ نہیں اٹھایا ، کبھی طلاق کا لفظ زبان پر لانا تو دور ، کبھی اسکا تصور بھی نہیں کیا ، بیوی کی تمام تر ذمہ داریاں ضرورت سے زیادہ پوری کی ہیں، اور جو کچھ بیان کیا وہ سب سچ ہے، تمام ثبوت بھی آپ کو فراہم کر دیے ہیں ، برائے مہربانی مجھے قرآن اور سنت کی روشنی میں فتویٰ جاری کریں کہ میری طلاق/خلع واقع ہو گئی ہے؟ فتویٰ درکار ہے، اللہ ربُ العزت آپکی عزت میں اضافہ کرے ۔آمین
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے، جس کے لئے فریقین کی باہمی رضامندی سے باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے ، جو کہ عموماً یکطرفہ عدالتی خلع کی ڈگریوں میں مفقود ہوتا ہے، چنانچہ ایسی ڈگری کے جاری ہو جانے کے باوجود شرعاً نکاح ختم نہیں ہوتا، بلکہ بد ستور برقرار رہتا ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کی بیوی نے سائل کی اجازت و رضامندی کے بغیر جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کی بناء پر کورٹ سےیک طرفہ خلع کی ڈگری حاصل کرلی ہو ،(جیسا کہ سوال سے بھی واضح ہو رہا ہے ) تو اس کی وجہ سے شرعاً سائل کا نکاح ختم نہیں ہوا، بلکہ بد ستور برقرار ہے ،
لہذا سائل کی بیوی کے لئے مذکور خلع کی ڈگری کو بنیاد بنا کر کسی دوسری جگہ نکاح کرنا شرعاً درست نہیں ،جس سے احتراز لازم ہے ۔
کما فی أحكام القرآن للجصاص : فقال أصحابنا : ليس للحكمين أن يفرقا إلا أن يرضى الزوج(الی قولہ)فقال أصحابنا : ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين ; لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف یملکہ الحکمان۔اھ(2/ 239) ۔
و فی المبسوط للسرخسي : و الخلع جائز عند السلطان و غيره ؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، و هو بمنزلة الطلاق(6/ 173) ۔