میری بہن نے کورٹ سے ایک سال پہلے خلع لی ہے ،کیوں کہ لڑکے والوں نے طلاق دینے سے انکار کر دیا تھا ، اور کہا کہ نہ ہم طلاق دیں گے ، اور نہ بہن کو واپس لیں گے ، تو کیا طلاق ہوگئی۔
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے، جس کے لئے فریقین کی باہمی رضامندی سے باقاعدہ ا یجاب و قبول شرط ہے ، جو کہ عموماً عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگریوں میں مفقود ہوتا ہے، چنانچہ ایسی ڈگری جاری ہو جانے کے باوجود شرعاً نکاح ختم نہیں ہوتا، بلکہ بدستور برقرار رہتا ہے، لہٰذا صورت مسئولہ میں اگر سائل کی بہن نے شوہر کی اجازت و رضامندی کے بغیر کورٹ سےیک طرفہ خلع کی ڈگری حاصل کرلی ہو تو اس کی وجہ سے شرعاً اس کا نکاح ختم نہیں ہوا، بلکہ بدستور برقرار ہے ، تاہم سائل کے بہنوئی کے لئے اپنی بیوی کے حقوق ادا نہ کرنے کے باوجود اسے طلاق نہ دینا ،اور اسے اسی طرح اپنے نکاح کے بندھن میں لٹکائے رکھنا قطعاً جائز نہیں ، اس پر لازم ہے کہ یا تو بیوی کے حقوق کی ادائیگی کرکے گھر بسانے کی کوشش کرے ،یا بیوی کو طلاق دیکر اپنے نکاح کے بندھن سے آزاد کرے ، تا کہ وہ عدت گزار کر اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کر سکے۔
کما فی أحكام القرآن للجصاص :فقال أصحابنا: ليس للحكمين أن يفرقا إلا أن يرضى الزوج(الی قولہ)فقال أصحابنا: ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين; لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف یملکہ الحکمان۔اھ(2/ 239) ۔
و فی المبسوط للسرخسي : و الخلع جائز عند السلطان و غيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، و هو بمنزلة الطلاق(6/ 173)۔