شوہر حقوق ادا نہیں کررہا ، تعویز کونڈو میں ہے، میری بہن پر جادو بھی کروایا جس کی وجہ سے اسے بچے کی پیدائش میں بہت شکایات آئی، اور جان کا مسئلہ بن گیا، اس کے گھر کا ماحول بھی خراب ہے،بہنیں رات دیر تک گھر سے باہر رہتی ہیں، بہنوں کے غیر مردوں سے تعلقات ہیں، ہم اپنی بہن کو وہاں نہیں بھیجنا چاہتے، لیکن وہ لوگ خلع بھی نہیں دے رہے، ہم حق مہر بھی واپس کرنے کو تیار ہیں، لیکن وہ لوگ خلع نہیں دے رہے، کیا ایسی صورت میں عدالت سے خلع لے سکتے ہیں، کیا عدالتی یکطرفہ خلع جائز ہے؟
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے، جس کے لئے فریقین کی باہمی رضامندی سے باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے ، جو کہ عموماً عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگریوں میں مفقود ہوتا ہے، چنانچہ ایسی ڈگری جاری ہو جانے کے باوجود شرعاً نکاح ختم نہیں ہوتا، بلکہ بدستور برقرار رہتا ہے، لہٰذا صورت مسئولہ میں اگر سائل کی بہن نے شوہر کی اجازت و رضامندی کے بغیر کورٹ سےیک طرفہ خلع کی ڈگری حاصل کرلے تو اس کی وجہ سے شرعاً اس کا نکاح ختم نہ ہوگا، لہذا اولاً تو سائل کو چاہئے کہ باہمی اختلافات و تنازعات کو حل کرنے کی کوشش کرے، تاہم اگر کوشش کے باوجود نباہ کی کوئی صورت ممکن نہ ہوسکے، تو ایسی صورت میں سائل خاندان کے بڑوں کے ذریعے اپنے بہنوئی کو طلاق یا خلع کے لئے آمادہ کر سکتا ہے۔
کما فی احکام القرآن للجصاصؒ: قال اصحابنا انھما لایجوز خلعھما الا برضی الزوجین لان الحاکم لا یملک ذلک فکیف یملکہ الحکمان ( الی قولہ ) وکیف یجوز للحکمین ان یخلعا بغیر رضاہ و یخرجا المال عن ملکھا اھ (ج2 ص191باب الحکمین کیف یعملان ط:اکیڈیمی لاھور باکستان)۔
وفی رد المحتار تحت ( قولہ و شرطہ کالطلاق ) وھو اھلیۃ الزوج وکون المرأۃ محلاً للطلاق منجزا،او معلقا علی الملک واما رکنہ فھو کما فی البدائع،اذا کان بعوض الایجاب والقبول لانہ عقد علی الطلاق بعوض،فلا تقع الفرقۃ،ولا یستحق العوض بدون القبول الخ ( ج3 ص441 باب الخلع ط: سعید)۔
وفی فتاوی التاترخانیۃ : فی المخلص والایضاح:الخلع عقد یفتقر الی الایجاب والقبول یثبت الفرقۃ ویستحق علیھا العوض الخ ( ج5 ص5 کتاب الطلاق الفصل السادس عشر فی الخلع ط:زکریا )۔