السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !
حضرات مفتیانِ کرام ہمارے شہر کے باہر دس ایکڑ زمین ہے،جسے قبرستان بنانے کے لئے سرکار نے دے رکھی ہے،بہت بڑی جگہ خالی ہونے کی وجہ سے زمین کے بیچوں بیچ جہاں پر ایک بھی قبر نہیں،میں جماعت خانے کے واسطے ایک عمارت بنانا چاہتے ہیں،وضوخانہ،بیت الخلاء وغیرہ شامل ہیں، تو سوال یہ ہے کہ!
(1)سرکار کی دی ہوئی قبرستان کے غیر محتاج اور خالی جگہ میں دس بیس بچوں کو حفظ کرانے یا ضرورت کے وقت نماز پڑھنے کے لئے جماعت خانہ،استاذ کے لئے چھوٹا سا رہائشی کمرہ،وضوخانہ،بیت الخلاء وغیرہ بنانے کی اجازت ہوگی یا نہیں؟
(2)اجازت ہونے کی صورت میں متعین جگہ کے آگے پیچھے اور دائیں بائیں جانب سے قبروں کا آجانا کیسا ہے؟عمارت کے چاروں طرف سے آنے جانے کے لئے چھ فٹ چوڑی سیمنٹ کا راستہ ہے۔شکریہ۔
مذکور زمین اگر سرکار نے قبرستان ہی کے لئے وقف کر رکھی ہو اور فی الوقت یا مستقبل میں اس مقصد کے لئے اس کے استعمال کا امکان ہو، تو اس قبرستان کے حدود میں مسجد،مدرسہ بنانا درست نہیں ہے۔
کمافی الدر المختار:قولهم شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة ووجوب العمل به فيجب عليه خدمة وظيفته أو تركها لمن يعمل اھ(4/434)۔