مجھے جریان کی بیماری ہے ، مراد یہ ہے کہ پیشاب کے بعد قطرے آتے ہیں ، ایسی صورت میں یوں لگتا ہے کہ کبھی کبھی منی کے قطرات بھی نکلےہیں ، لیکن جب بھی استنجا کروں رات کو یا صبح ،تو ایسا لگتا ہے جیسے پیشاب کے بعد منی کے قطرات بھی نکلےہیں ،سوال یہ ہے کہ اگر سو کر اٹھا اور پھر استنجاء کیا اور اس وقت پیشاب کے بعد اگر منی کے قطرات نکلے تو غسل کرنا پڑے گا یا نہیں ؟
واضح ہوکہ بیداری کی حالت میں منی نکلنے سے غسل اس وقت واجب ہوتا ہے ، جب وہ شہوت کے ساتھ نکلے ، البتہ بغیر شہوت کےکسی بیماری کی وجہ سے اگر کچھ قطرات نکل جائیں تو اس سے غسل لازم نہ ہوگا ، بلکہ وضو ٹوٹ جائےگا ، لہذا اس کے بعد نماز کے لئے دوبارہ نیا وضو کرنا اور بدن اور کپڑوں کے ناپاک حصے کو دھونا لازم ہوگا۔
کما فی صحیح البخاری : عن علی بن أبی طالب ، قال : کنت رجلاً مذاء فامرت المقداد بن الاسود ان یسأل النبی ﷺ فسأله ، فقال : فیه الوضوء اھ (1/38)۔
(و فرض) الغسل (عند) خروج (مني) من العضو و إلا فلا يفرض اتفاقا ؛ لأنه في حكم الباطن (منفصل عن مقره) هو صلب الرجل و ترائب المرأة
(و صاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب (الیٰ قوله) (و حكمه الوضوء)
الفتاوی التاتارخانیة : و متیٰ کانت مفارقته عن مکانه و خروجه لا عن شھوۃ لایجب الغسل اھ (1/282)۔