اگر کسی آدمی کے بازو پر پلاستر بندھا ہو اور اسی دوران احتلام ہوجائے تو غسل تو کرے گا ، مگر وہ بازو پر جو پلاستر بندھا تھا ، اس حصہ میں پانی تو نہیں جاسکتا ، تو طہارت کیسے حاصل کرسکتے ہیں ؟ غسل ہوجائے گا یا نہیں؟
وضو یا غسل کے دوران اگر بدن کے کسی حصے تک پانی پہنچانا ممکن نہ ہو ، جیسے صورتِ مسئولہ میں پلاستر کی وجہ سے پانی پہنچانا ممکن نہیں یا پہنچانا تو ممکن ہو ، مگر اس جگہ پر پانی بہانا نقصان دہ ہو ، تو ایسی صورت میں اس حصے پر مسح کرنا لازم ہے ۔
کما فی الدر المختار : (و حكم مسح جبيرة) هي عيدان يجبر بها الكسر (و خرقة قرحة و موضع فصد) و كي (و نحو ذلك) كعصابة جراحة و لو برأسه(كغسل لما تحتها) اھ (1/278)۔
و فی الفتاوی الھندیة : وإنما يمسح إذا لم يقدر على غسل ما تحتها ومسحه بأن تضرر بإصابة الماء أو حلها. هكذا في شرح الوقاية (الیٰ قوله) و یستوی فیه الحدث الأصغر والأکبر اھ (1/35)۔